Friday, November 27, 2009

Hadith Ghazwatul Hind aur Mas'ala-e-kashmir per us ke Intibaq ki Jasarat

حدیث غزوةالہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کے انطباق کی جسارت
کشمیر کے تنازع کی بنیاد پر ایک عرصے سے پاکستان کی جہادی تنظیموں نے ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔اقدامی اور جارحانہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شخصی اور خفیہ (proxy) نوعیت کی جنگ ہے جس کی اسلام میںکسی بھی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہ اسلام کے تمام تر مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔پاکستان کے معتبر دینی و علمی حلقے اسے محض ایک قومی و سیاسی لڑائی تصور کر تے ہیں۔اسے اسلامی جہاد کی شکل میں نہیں دیکھتے۔لیکن پاکستان کی مختلف جہادی تحریکیں، جنھیں ملک کے علما اور اسکالر س کے ایک گروپ کی بڑے پیمانے پر عوامی تائید حاصل ہے ،دونوں ملکوں کے اس تنازع کو جہاد کی شکل میں دیکھتی ہیں، بلکہ اسے اپنے جہادی مہم کا پہلا پڑاﺅ تصور کرتی ہیں۔دوسرا پڑاﺅ پورے ہندوستان کو دارالاسلام(پاکستان) میں شامل کر نا اور اس کے بعد کے مراحل میں دنیا کے دوسرے خطوں پر اسلامی ’بالا دستی ‘(hegemony)قائم کرنا ہے۔ہم نے بالا دستی کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے۔در اصل پاکستان اور عرب ممالک کی ریڈیکل مسلم تحریکوں کا ذہن پوری طرح ماضی کی استعماری اور حال کی امپریل طاقتوں کی سفاکانہ جولانیوںسے متاثر ہے۔وہ ان کی سیاسی بالادستی کے کاﺅنٹر کرنے کے لےے اسلامی سیاسی بالا دستی کا تصور رکھتی ہیں جو اسلام میں سراسر اجنبی ہے۔قرآن (الصف : )اور حدیث(الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ) میں غلبہ¿ اسلام سے مراد اسلام کا نظریاتی ا ورروحانی غلبہ ہی ہوسکتا ہے اور بلا شبہ دوسرے مذاہب و نظریات کے مقابلے میں اسلام کو یہ غلبہ پہلے بھی حاصل تھا اور اب بھی حاصل ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغمبرانہ مشن بنیادی طور پر یہی تھا جس میں آپ پوری طرح کامیاب رہے ورنہ دوسری صورت میں کو ئی یہ کہہ سکتاہے ،جیسا کہ ایک عرب مصنف سلیمان البدر نے دعوی کیا تھا کہ (نعوذ با للہ ) آ پ صلی اللہ علیہ وسلم دینی سطح پر کامیاب لیکن تاریخی سطح پر ناکام رہے( عربی روزنامہ الانبائ۔کویت۹،دسمبر ۱۹۹۶ بحوالہ: عربی ماہنامہ البیان ۔لندن اپریل ۔مئی ۱۹۹۷)۔خود اسلام پر اسلام کے ماننے والوں کی طرف سے کےے جانے والے ظلم و ستم میں سے ایک بڑاظلم یہ ہے کہ آج غیر مسلموں کے ساتھ پیش آنے والی ہر چھوٹی بڑی قومیت ،علاقائیت،یا دوسری بنیادوں پر واقع ہونے والی لڑائی یا تنازع کو عوام کا دل جیتنے اور دنیا کما نے کے لےے جہاد سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔اس سے دنیا بھر میں اسلام کی جو رسوائی ہورہی ہے اس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے۔
ہند وپاک کے مابین کشمیر کا تنازعہ پچھلے ساٹھ سالوں سے جاری ہے جس کو حل کر نے کی مختلف سطحوں پر کوششیں ہوتی رہی ہیں۔اس تعلق سے پاکستان کے حصے میں آنے والی ناکامیوں اور مایوسیوں کی بناپر وہاں کی جہادی تحریکوں کے علاوہ علما اور اہل دانش کی ایک بہت بڑی تعدادنے بھی اسے اسلامی جہادو قتال سے تعبیر کرنا شروع کردیا ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اسے بعض معروف علما کی طرف سے فرض عین قرار دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔ اب جہاد کو ہی غایت اور وسیلہ سمجھنے کی بالقصد غلطی میں مبتلا ایک بڑا جہادی حلقہ کشمیر سے متعلق اپنے نام نہاد جہاد کوعین اس حدیث رسول کامصداق تصور کرنے لگا ہے جس میں ہندوستان پر غزوے کی بات کہی گئی ہے۔صحاح ستہ میں سے صرف نسائی میںحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرمایا ،اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کر دوں گا۔اگر قتل ہوگیا تو میں افضل ترین شہدا میں شمار ہوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا“(۱۱/۲۶)۔اس قبیل کی ایک دوسری روایت رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:میری امت میں دو گروہ ایسے ہوںگے جنھیں اللہ تعالی نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے۔ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ وہ ہے جو عیسی ابن مریم کے ساتھ ہوگا“۔الفاظ کی کمی و زیادتی کے ساتھ نسائی کے علاوہ یہ حدیث مسند احمد بن حنبل ،بیہقی،اور طبرانی وغیرہ میں بھی نقل کی گئی ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر اس حدیث کے انطباق سے مختلف ملکوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جاری کش مکش کے مقابلے میں اس کی حیثیت بالکل منفرداور ممتاز ہو جاتی ہے ۔اس صورت میں اس بات کا امکان شدید طور پر بڑھ جاتا ہے کہ ہندوستان پر غزوے(چڑھائی)کی” فضیلت“ کے مد نظر شہادت کے لےے دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے بے تاب افراد اور جماعتیں کشمیر کو اپنی امیدوں کا مرکز تصور کر لیں۔فی الواقع بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔انٹرنیٹ پر غزوة الہند کے تعلق سے مختلف سائٹس(مثلاً:ww.ghazwatulhind.com)اس نکتہ نظر کی تبلیغ میں مشغول ہیں۔ایک سائٹ پرغزوةالہند پر ریکارڈ شدہ کسی عرب کی انگریزی تقریر صاف طور پر سنی جا سکتی ہے۔پاکستا ن میں اس موضوع پر مقالات شائع ہوتے رہے ہیں۔ہمارے سامنے پاکستان کے موقر اردو مجلے”محدث“ لاہور کا ا گست2003 کا شمارہ ہے۔۔ اس میں غزوئہ ہند پر بیس صفحات کا ایک مضمون شامل ہے ۔مقالہ نگار: ڈاکٹر عصمت اللہ انٹرنیشنل اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔اس میں کشمیر کے نام نہاد جہاد کو اس حدیث پر منطبق کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے ۔اسی حدیث کے تحت پاکستان کے نام نہاد جہادیوںکی ایک تعداد پورے ہندوستان کے ساتھ جہاد وقتال کی بات کرتی ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ اس میں ملوث بھی ہے،لےکن ”محدث“ نے مذکورہ مقالے میںواضح طور پر اس نکتہ نظر سے اختلاف کیا ہے ۔ اور جا بجا فٹ نوٹس میں اس پر عالمانہ تنقید کی ہے۔ پاکستان کے موقر دینی و علمی پرچوں میں یہ بحث نظر نہیں آتی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کی غالب راے اس کے خلاف ہے۔لیکن اس تعلق سے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ موجودہ جہادی سرشت کی ترکیب میں علم و دلائل کو کم اور اندھی جذباتیت اور موجودہ سیاسی صورت حال سے متاثر رد عمل کی نفسیات کو دخل زیادہ ہے۔پاکستان سمیت عرب و غرب کی ساری جہادی تحریکات اسی ضمن میں آتی ہیں ۔اس لےے بجا طور پر یہ حدیث ان کے ہاتھوں کا کھلونا بنی ہوئی ہے اور مزید بن سکتی ہے، معصوم ذہنوں کواس سے پھانسنے کا کام لیا جا رہا ہے۔ممکن ہے کہ ممبئی حملے کے نوجوان جہادیوں کے ذہن کو اس حدیث کے ذریعے mouldکرنے کی کوشش کی گئی ہو۔قابل تشو یش بات یہ ہے کہ اس حدیث کے تحت، اگر بالفرض کشمیرانڈیاسے علاحدہ ہو جائے تب بھی اس کے ساتھ تاقیامت جہاد کاتصور قائم رہتا ہے۔ یہ نہایت افسوس ناک پہلو ہے۔اس جہادکی زد ہندوستانی مسلمانوں پر جس طرح پڑ رہی ہے اور پڑ سکتی ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔اس اعتبار سے یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے سنجیدہ فکر علما و اہل دانش کے لےے لمحہ فکریہ ہے۔
بد قسمتی سے جہاد سے متعلق نظریہ ان اسلامی نظریات میں سے ایک ہے جو تحریف اور افراط وتفریط کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں ۔اس کی ابتدا اسلام کی پہلی صدی سے ہی ہو گئی تھی جب مسلمانوں کی باہمی جنگ و جدال کو ایک گروہ نے جہاد کے ہی نکتہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی۔بخاری کی کئی روایتوں میں حضرت عبداللہ بن عمر کی اس پر تنقید موجود ہے۔ جہاد و قتال کی اس غلط تعبیر و تشریح کی مستقل روایت کا نتیجہ ہے کہ دوسروں کے ذریعے کےے جانے والے ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی اعمال کو اپنے لےے حلال اور دینی کارنامہ سمجھ لیا گیا،جس کی ایک بد ترین مثال خود کش حملہ ہے۔ اس کے علاوہ غیر حکومتی (پرائیوٹ) سطح پر جہاد کا تصور بھی اس کی نمایاں مثال ہے۔جہاں تک میرے علم میں ہے”سیمی“ نے بھی اس حدیث کی اپنے حلقوں میں تقسیم و اشاعت کی تھی۔ ” سیمی“ کے علاوہ کسی قابل ذکر ہندوستانی عالم نے اس کی ”پاکستانی تشریح“ نہیں کی۔
اس حدیث سے متعلق غور و فکر کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:۔٭پہلی بات تو یہ کہ یہ حدیث صحاح ستہ میں سے صرف نسائی میں مذکور ہوئی ہے۔حالاں کہ اس حدیث میںغزوة الہند کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے اس کا تقاضا تھا کہ یہ صحابہ کرام خصوصا اکابرصحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زیادہ سے زیادہ مشہور ہو ۔اور فتح قسطنطنیہ(ترکی )کی پیش گوئی کی طرح بلکہ اس سے زیادہ اس کو اہمیت حاصل ہو۔فتح قسطنطنیہ سے متعلق حدیث صحیحین میں واضح الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔
٭اگر یہ حدیث صحیح ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ یہ صحیح ہو،تو حقیقت میں اس کی پیش گوئی اسلام کی ابتدائی دور میں ہی پوری ہو چکی ہے۔علما کی اکثریت اس پر متفق ہے اور یہی بات عقل و قیاس کے عین مطابق ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت 15ھ میں حضرت حکم رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیرہ بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے تھانہ،بھروچ وغیرہ اور اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں سندھ و گجرات کے مختلف شہروں کے راستے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ہندوستان میں قدم رکھا اور دعوتی و سیاسی سطح پر اسلام کے تعارف و اشاعت کی کوششیں کیں۔
٭بعض علما اور شارحین حدیث کی راےے میں اس سے 93ھ میں محمد بن قاسم ثقفی کے ذریعے سندھ پر کیا جانے والا حملہ مراد ہے جو بڑے پیمانے پر ہندوستان میں اسلام کی اشاعت اور استحکام کا ذریعہ بنا۔مسند احمد بن حنبل میں با ضابطہ اس جملے کے ساتھ یہ حدیث روایت کی گئی ہے کہ ’:’سندھ و ہند کی طرف لشکر کی روانگی ہوگی“۔اس سے جہاں اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ ہو نہ ہو یہ حدیث دور اموی میں اسی خاص سیاسی مقصد کے لےے وضع کی گئی ہو، وہیں اس کے صحیح ہونے کی صورت میں یہ واقعہ حدیث کا قریب ترین مصداق نظر آتاہے۔محدث کے مذکورہ مقالے میںادارے کی طرف سے تنقیدی نوٹ میں اسی کو ترجیح دیا گیا ہے۔
٭اس حدیث سے واضح طور پر کسی متعین واقعے(غزوے) کو ہی مراد لیا جا سکتا ہے نہ کہ واقعات (غزوات) کا تسلسل جیسا کہ اوپرذکر کردہ مضمون میں ثابت کرنے کی کوشش گئی ہے۔ بعض دیگر علما کو بھی یہ خیال گزرا ہے جو سراسر حدیث کے الفاظ اور مضمون کے خلاف ہے۔
٭ نہایت اہم سوال ہے کہ کیا برصغیر ہند پر مسلم حکم رانوں کی طرف سے متعدد اور مسلسل جنگی یا جہادی کارروائیوں ، تقریبا600 سال تک برصغیر ہند پر مسلمانو ںکی حکومت اور اس کی آدھی آبادی کے اہل اسلام پر مشتمل ہونے کے با وجود ، اس بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اس کو جہاد و قتال کا ہدف قرار دیا جائے ۔بر صغیر ہند میں اب باضابطہ دو مسلم ملک وجود میں آچکے ہیں ۔موجودہ ہندوستان میں اسلام کی پر امن دعوت کے تمام تر ذرائع اور امکانات موجود ہیں ۔یہ پہلو اس کے علاوہ ہے کہ دونوں ملک باہم اشتراک و تعاون کے معاہدوں سے جڑے ہوئے ہیں اور علما کی متفقہ راےے کے مطابق آج پوری دنیا ایک عملی معاہدے کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اہم علما آج سے تقریبا پون صدی پیشتر اس کا اعلان کرچکے تھے۔ ا س صورت حال میں کشمیر کی نام نہاد آزادی کے نام پر کی جانے والی’ پراکسی‘ جنگ فریق ثانی کے ساتھ دھوکے کی کارروائی اور اسلام کے تسلیم شدہ اصولوں کے ساتھ کھلی بغاوت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
٭محمود غزنوی، شہاب الدین غوری،امیر تیمور ،نادر شاہ وغیرہ مسلم حکم رانوں کے لےے یہ بہت آسان تھا کہ وہ اس حدیث کو ہندوستان پر اپنی لشکر کشی کے جواز کے کے طور پر پیش کریں ۔ ان کے درباری علما انھیں یہ نکتہ سجھا سکتے تھے۔لیکن ہندوستانی تاریخ پر لکھی گئی کتابوں میں ان کے حالات میں یہ بات نہیں ملتی ۔ شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ نے مراٹھوں کے زور کو توڑنے کے لیے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر چڑھائی کی دعوت دی لیکن انھوں نے اس حدیث کو دلیل نہیں بنا یا۔
٭پیغمبرانہ پیش گوئیوں کے تعلق سے یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ان کی زبان بالواسطہ اور علامتی ہوتی ہے۔اس کے صحیح مفہوم ومصداق تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لےے بہت کچھ تاویل و قیاس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لےے ان کی توجیہ و تفہیم محض امکانی اور قیاسی حد تک ہی ممکن ہے۔
بہر حال یہ اندھی اور افسوس ناک جسارت ہے کہ غزو ةالہندسے متعلق حدیث کو نام نہاد جہاد کشمیر اور ہند و پاک کی محاذ آرائی پر محمول کیا جائے۔ یہ صریح طور پر اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کے نام نہاد متبعین کی طرف سے برتا جانے والا ظلم ہے ۔برصغیر ہند وپاک کی جہادی تحریکات اپنی نفسیات اور طرز عمل میں خوارج کی طرح ہیں جن سے متعلق پیغمبر اسلام نے واضح پیش گوئی کی تھی کہ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے کہ جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔وہ انھی کی طرح سے ،جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے متعلق کہا تھا،کلمئہ حق سے باطل مراد لیتے ہیں (کَلِمَة ُحَقٍّ اُرِیدَ بِہَا البَاطِلُ)۔
اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اہل علم و فکر خصوصا علما کا طبقہ اسلامی نصوص کے ساتھ اس کھلواڑ اور احیائے اسلام کے نام پر تخریب اسلام کی کوشش کاسخت نوٹس لے ۔جہاد اسلام میں فتنے کے خاتمے کے لےے مشروع کیا گیا لیکن اس وقت فتنہ پھیلانے کے لےے جہاد کیا جارہا ہے۔ عوام کو اس پہلو کی خطرناکیوں اور اس کے نتائج سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس تعلق سے ہند و پاک کے علما کی ذمہ داری خاص طور پر بڑھی ہوئی ہے۔مسلم حلقوں کی طرف سے دہشت گردی کے الزامات کے دفاع کے لےے جہاں آئے دن سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہور ہی ہیں ،وہیں با ضابطہ طور پر ایسے علمی پروگراموں کے بھی انعقاد کی ضرورت ہے،جن کے توسط سے یہ محاسبہ کیا جا سکے کہ کس طرح اسلام کے نام پر اسلام کے نام نہاد سپاہی جہاد کے عنوان سے دہشت گردی کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اسلامی جہاد کے روایتی تصورات پرنظر ثانی کی شدید ضرورت ہے ۔ اقدامی جہاد اسی طرح تکثیری معاشرے میں جہاد کی اجازت دینا محض دعوتی امکانات کوتباہ کر نا اور امت مسلمہ کی تباہ حالیوں میں اضافہ کرنا ہے۔اسلام کی سیاسی فکر میں پائے جانے والے خلا او ر مختلف تضادات کو نظری سطح پر جبتک دور نہ کیا جائے ، آج کے جمہوری اور مشترکہ معاشرے کے ساتھ اس کے تصادم کوختم نہیںکیا جاسکتا۔اس سے مسلمانوں کے اندر ایک شدید اجتماعی اخلاقی بحران کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے آثار صاف نظر آرہے ہیں۔ صرف الزامات کا لفظی سطح پر دفاع اور دہشت گردی کی سادہ اور عمومی اندازکی مذمت کافی نہیں ہے۔حقیقت یہ کہ اس وقت خود جہادی تحریکات کے خلاف ’جہاد‘چھیڑنے کی ضرورت ہے اور یہ جہاد بلا شبہ علما اور اہل فکر ہی کر سکتے ہیں۔

Islami Akhlaq ke tanazur main muslim gher muslim ta'alluqat ki tashkil

اسلامی اخلاق کے تناظر میں مسلم غیر مسلم تعلقات کی تشکیل
مسلم غیرمسلم تعلقات کے حوالے سے اسلامی اخلاق کی چار اہم بنیادیں ہیں: ۔
انسانیت عامہ کا اسلامی تصور۔
انسانی حقوق کا اسلامی تصور۔
تکثیریت کا اسلامی تصور۔
اسلام میں امن کا تصور۔
انسانیت عامہ کا اسلامی تصور:۔
اسلام کے انسانیت عامہ کی بنیاد تین اصولوں پر ہے:(۱)وحدت (۲) کرامت (۳) مساوات۔ قرآن میں تکرار کے ساتھ اس بات کو انسان کے ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کی اصل(۳) ایک ہے اور وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہے۔ البتہ اسے شعوب وقبائل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ (۴) اور اس کا مقصد قرآن کے لفظ میں ”تعارف“ ہے۔ تعارف کا مطلب ہے مواسات اور ایک دوسرے کی خبرگیری کرنا۔ حدیث سے اس مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ انسان وہ ہے جو خدا کے کنبے کے ساتھ بہترین سلوک کرے (۵) گویا صورت میں متفرق بندے کو اللہ تعالیٰ دلوں میں متحد دیکھنا چاہتا ہے اور یہ اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کی مصلحت میں سے ہے اور انسان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ انسان کو اس فرق وامتیاز کو تسلیم کرتے ہوئے دلوں کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے۔
توحید انسان کی فطرت ہے اور اس کا تعلق خود خدائے واحد کی ذات وحقیقت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا۔(۶) بہترین صورت پر پیدا کرنے کی وضاحت اس حدیث سے یہ ہوتی ہے کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پر خلق کیا ہے (۷) قرآن کے مطابق خدا نے آدم کی اپنے ہاتھ سے تخلیق کی اور اس میں اپنی روح پھونکی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پوری انسانیت اپنی صورت اور حقیقت میں خدا کی ذات کا پرتو ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اسلامی تصوف کے وجودی فلسفے میںوسیع طور پر استعمال کیا گیا ہے اور صوفیا کے بعض طبقات اور سلسلے اسے تصوف کے مغز اور روح سے تعبیر کرتے ہیں۔ حدیث میں انسان کو خدا کے اخلاق کو اختیار کرنے کی ترغیب وہدایت انسان کی اسی خصوصیت کی بناپر دی گئی ہے۔ خدائی اخلاق کے بغیر وہ خدا کی عطا کردہ خلافت کی ذ مہ داری ادا نہیں کرسکتا۔
(ب)انسانیت عامہ کی دوسری اصولی بنیاد کرامت انسانی کا قرآنی نظریہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو مکرم بنایا اور دنیا والوں پر اسے فضیلت بخشی۔ (۸) انسان اپنے اعمال سے قطع نظر خود اپنی خلقت اور ذات کی بنیاد پر بھی کرامت کا مستحق ہے۔ اسی بات کو ایک شرعی اصول کے طور پر مشہور حنفی فقیہ ابن عابدین شامی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ: الآدمی مکرم شرعا ولو کافرا(۹) رسول اللہ کی احادیث اور آپ کے عمل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔آپ کے سامنے سے کسی یہودی کا جنازہ بھی گزر تا تو آپ کھڑے ہوجاتے اس عمل پر صحابہ کی حیرتناکی اور سوال کا جواب آپ نے یہ دیا کہ:” کیا یہ انسان نہیں “(الیست نفساً) (۱۰) پیغمبر اسلام کا اس طرح کھڑا ہونا اسی انسانیت کے احترام میں ہوتا تھا۔
واقعاتی سطح پر انسان کی تکریم کے دو اہم پہلو ہیں:۔
ایک یہ کہ خدا نے اسے فرشتوں کا مسجود بنایا اور ابلیس کو اس سے انکار پر ابدی لعنت کا مستحق قرار دیا۔ دوسرے اسے زمین کا خلیفہ بنایا اور اسے اپنی امانت سونپی۔ اس میں پائے جانے والی فساد فی الارض اور خوں ریزی کی صفت کو، جس کا سوال فرشتوں نے خدا کے سامنے اٹھایا تھا، اسے خلافت کے منصب سے جوڑ کر دیکھے جانے کو یہ کہہ کر نظر اندازکر دیا کہ: انی اعلم مالا تعلمون(۱۱) گویا اس کے اندر بدی کی صفات اس کے اس اعزاز ( خلافت ارضی) میں حارج نہیں ہیں۔
(ج) اس کی تیسری بنیاد مساوات بین الناس پر ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الناس سواسیة کا سنان المشط ( انسان کنگھی کے دانوں کی طرح آپس میں برابر اور یکساں ہیں)اور ان العباد کلہم اخوة (اللہ کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں)(۱۲) عالمی بھائی چارے اور مساوات بین الناس کے اس تصور میں بھی انسان کا عقیدہ شامل نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق، تاریخ میں جن انسانی جماعتوں اور قوموں: عاد،ثمود، اصحاب مدین اور قوم لوط وغیرہ کے پاس پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا۔ قرآن میں ان پیغمبروں کو ان لوگوں کا بھائی بتایا گیا ہے۔ (۱۳) حالاں کہ ان قوموں میں سے کم یا بیش لوگ ان پیغمبروں کا انکار کرنے والے تھے۔ اسی طرح قرآن کے مطابق، پیغمبروں نے اپنے مخاطبین کو ”قومی“ کہہ کر مخاطب کیا حالاں کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان پر ایمان لانے والی نہیں تھی۔ ان میں کفار ومشرکین بھی شامل تھے۔ گویا خود قرآن کے مطابق ان دونوں کو ایک رشتے میں پرونے والی چیزنسلی قومیت تھی نہ کہ مذہب۔(مزید تفصیل کے لیے: متحدہ قومیت: مولانا حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ)۔
پیغمبر اسلام پوری انسانیت کے نبی تھے۔ اس لیے پوری انسانیت کے ساتھ ان کا پہلا رشتہ قومی رشتہ ہے اور اس میں تمام مسلم وغیر مسلم برابر ہیں۔ متفقہ طور پر علمائے اسلام نے اس کی تعبیر اس طرح کی ہے کہ پیغمبر اسلام کے تعلق سے مسلمان امت اجابت اور غیر مسلم امت دعوت ہیں۔ غیرمسلموں کو خواہ یہ رشتہ قابل قبول نہ ہو لیکن مسلمان ان کے ساتھ دوہرا رشتہ رکھنے کے پابند ہیں۔ پہلا رشتہ رکھنا اگر انسانی ذمہ داری ہے تو دوسرا رشتہ رکھنا مذہبی ذمہ داری ۔
انسانی حقوق کا اسلامی تصور
انسانیت عامہ کے اس اسلامی تصور سے حقوق انسانی کا اسلامی تصور قائم ہوتا ہے۔ یعنی ایک شخص جو انسان ہونے میں مشترکہ انسانیت کا حصہ ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کا بھی مستحق ہے۔ قرآن میں ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ٹھہرایا گیا ہے۔ گویا ایک انسان کا وجود پوری انسانیت کا وجود ہے۔ ایک فرد کی اس یونی ورسل اہمیت کی معنویت اسی صورت میں باقی رہ سکتی ہے کہ اسے یونی ورسل حقوق بھی حاصل ہوں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی ملک کے شہری پر شہری ہونے کا صحیح اطلاق اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے شہری حقوق حاصل نہ ہوں۔ ہر انسان خدا کی ”یونی ورسل مملکت“ کا ایک شہری ہے اور اس لیے وہ دوسرے انسانوں کی طرح تمام انسانی حقوق کا حق دار ہے۔ وہ مذہبی حقوق ہوں، یاسماجی، سیاسی، معاشی یا اور دوسرے حقوق۔ پچھلی قوموں کے مقابلے میں رسول اللہ کے بعد اب پوری انسانیت سے ہلاکت وتباہی کا عذاب اٹھاکر اسے ایک خدائی تحفظ فراہم کردیا گیا ہے۔ خدائی تحفظ کا یہ تکوینی نقشہ اپنے آپ میں اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے انسانی اور مادی سطح پر اسی طرح برتا جائے۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ نے زمین پر جو شریعت نازل کی اس کامقصد ان پانچ بنیادی حقوق کی حفاظت ہے: (۱) حفظ نفس۔ (۲) حفظ مال۔ (۳)حفظ دین۔ (۴)حفظ عقل۔(۵) حفظ نسل۔ پانچ کی تعداد استقرائی ہے۔ تحدیدی نہیں۔علّامہ شاطبی کے بعد دوسرے علما نے ان میں اضافے کئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس ضمن میں ان تمام حقوق کو سمجھا جانا چاہیے جو ضروری اور بنیادی ہیں اور جن کا تحفظ ضروری ہے۔
مختصراً یہ تمام حقوق انسان کو اس لیے حاصل ہیں، جیسا کہ اسلامی نصوص سے اس کا تصور قائم ہوتا ہے، کہ: خدا تمام انسانوں کا خالق ہے ۔وہ انسانوں سے محبت کرتا ہے ۔تمام انسانوں کو اس نے مکرم بنایا انھیں خلافت کا اعزاز بخشا۔ تمام مذاہب میں مشترک اس زریں اصول کاکہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو کا تقاضا یہی ہے اور بجائے خود یہی بات عقل و فطرت کے مطابق ہے۔
اسلامی تکثیریت اور بقائے باہم
اسلامی تکثیریت اور بقائے باہم اسلامی عقائد وروایات کے بنیادی اقدار میں سے ہے۔ قرآن کی مختلف آیات میں اسے فطری مظہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے: ”اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں، سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں۔ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔“ (۱۴)۔
رنگ، نسل زبان، قومیت اور قبائلی شناخت کوامتیاز کی بنیاد تسلیم نہیں کیا گیا ہے بلکہ فطرت کا تقاضا سمجھ کر اسے برداشت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ صرف ایک امتیاز کو باقی رکھا گیا ہے اور وہ مذہب کا امتیاز ہے کیوں کہ انسانی اعمال کا میزان مذہب ہے۔ تاہم مذہب کے اس امتیاز کے باوجود ہر شخص کو ارادے اور عمل کی کلی آزادی دے دی گئی ہے اور مذہب کو اس کے سماجی و شہری حقوق میں حارج نہیں ہونے دیا گیا ہے۔
قرآن میں ایک واضح اصول کے طور پر کہا گیا ہے کہ دین میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں ہے (۱۵) اور انسان کو اختیار ہے کہ وہ جو مذہب یا جو نظریہ چاہے اختیار کرے (۱۶) اس لیے کہ یہ خود اللہ کی مصلحت میں سے نہیں ہے کہ سارے لوگ ایک فکر اور ایک طریقے کے پابند ہوجائیں: اگر آپ کا رب چاہتا تو دنیا کے تمام لوگ ایمان قبول کرلیتے۔ کیا لوگوں کو مومن بنانے کے لیے آپ ان کے ساتھ زبردستی کریں گے۔“ دوسری جگہ کہا گیا ہے: ”اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو صرف ایک امت بنادیتا۔ “(۱۷) ”اللہ نے ہی تمہاری تخلیق کی ہے تو تم میں کچھ لوگ مومن ہیں اور کچھ لوگ منکر“۔ اس طرح مومن کے ساتھ منکر ہونے کو ایک ابدی اور فطری حقیقت کے طور پر خود قرآن میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ہر قوم کا مزاج، ماحول، فطری صلاحیتیں، اس کے لیے رد وقبول کے امکانات الگ الگ ہیں۔ اس لیے قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے ایک ”شرعة“ اور ”منہاج“ مقرر کیا ہے۔ دین اور اعمال دونوں کو فرد کے اپنے انتخاب پر چھوڑنے کی واضح ہدایت قرآن میں اسی لیے دی گئی ہے (جیسا کہ ”لکم دینکم ولی دین“ اور ”لنا اعمالنا ولکم اعمالکم“ سے ظاہر ہے) کہ انسان کی اصل توجہ معاشرے کے اجتماعی خیر وفلاح، عدل و احسان، قرابت داروں اور پڑوسیوں کے حقوق بہم پہنچانے، غلط اور ناشائستہ حرکتوں سے اور ظلم وسرکشی سے اجتناب اور دوسروں کو اس سے باز رکھنے کے تصورات پر مرکوز رہے۔ قرآن میں کہا گیا کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو،(۱۸) انصاف کرو اور یہ کہ: ”عدل کے معاملے میں اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو“۔
پیغمبر اسلام نے مدینے میں جو پہلی اسلامی ریاست تشکیل کی اس میں تہذیبی تعدد، تکثیریت اور بقائے باہم کو بنیادی اصول کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ میثاق مدینہ اس اسلامی ریاست اور اسلامی تاریخ کا پہلا تحریری معاہدہ یا دستور تھا۔ اور اس دستور میں اسلام کے تکثیری اصول اور نظریے کو عملی شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، مدینہ کے تمام مسلم وغیر مسلم شہریوں کو، جو اس معاہدے کے پابند تھے، یکساں حقوق حاصل تھے۔ معاہدے میں مسلمان یہود اور مشرکین تمام کو ایک امت کی حیثیت دی گئی تھی۔ اس کی ایک شق میں یہ واضح الفاظ تھے کہ: للمسلمین دینہم وللیہود دینہم (۱۹) (مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین ہے اور یہودیوں کے لیے یہودیوں کا دین) قرآن کے واضح اعلان کے بعد کہ عیسائی اپنے معاملات کا فیصلہ خود انجیل کے مطابق کریں۔ رسول اللہ غیر مسلمین کی خود مختارانہ حیثیت کو محدود یا ختم نہیں کرسکتے تھے۔
قرآن میں عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے مسجد سے پہلے چرچ اورسینے گاگ کا ذکر کیا گیا ہے” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں سے ایک دوسرے کے ذریعہ دفاع نہ کرتا تو عیسائیوں کی خانقاہیں، گرجے، یہودیوں کے سینے گاگ اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر ہوتا ہے۔“(۱۹)۔
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلمین جن میں اہل کتاب اور دوسرے غیر مسلم بھی شامل ہیں، کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود اپنے نظام فطرت کے تحت لے رکھا ہے۔ اس کی وجہ آیت کے مطابق، ظاہر ہے، یہ ہے کہ اس میں کثرت سے خدا کا ذکر ہوتا ہے۔مذہبی تکثیریت پر یہ آیت سب سے واضح دلیل ہے۔
رسول اللہ نے اہل نجران (دمشق) اور اہل حیرہ سے جو معاہدے کئے ان میں بھی یہاں کے غیر مسلم باشندوں کوہر طرح کی مذہبی ، معاشی اورسماجی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ رسول اللہ کے بعد صحابہ اسی طرز پر عامل رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل فلسطین کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس میں بھی غیر مسلموں کو مکمل خود مختاری دی گئی۔ بعد کی تاریخ میں بھی اس کی واضح نشانیاں موجود ہیں، البتہ اہل ذمہ کے تعلق سے فقہا کے ایک طبقے کی طرف سے جو افراط و تفریط کی شکلیں سامنے آئیں انہیں اسلامی اخلاق کا نمونہ قرارنہیں دیا جا سکتا۔تاہم مسلم حکمرانوں کا مجموعی طرز عمل غیر مسلم رعایا کے ساتھ بہتر تھا۔
برنارڈ لیوس جو یہودی ہیں اور اپنے مسلم مخالف نقطہ نظر کے لیے مشہور ہیں۔لکھتے ہیں:۔
'' Religious persecution of the members of other faiths was almost absent. Jews and Christians under Muslim rule were not subject to exile, apostasy or death which was the choice offered to Muslim and Jews in reconquered Spain. And Christian and Jews were not subject to any major territorial and occupational restrictions such as were the common lot of Jews in premodern Europe.''(20)
”(مسلم عہد ہائے حکومت میں) دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مذہبی بنیاد پر اذیت دینے کے واقعات بہت کم ہوئے۔ مسلم حکمرانی میں رہنے والے یہودیوں اور عیسائیوں کو جلا وطنی، ترک مذہب اور ہلاکت سے دوچار نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ اسپین کی ( عیسائیوں کے ذریعہ) دوبارہ فتح کے موقع پر مسلمانوں اور یہودیوںکے ساتھ پیش آیا۔ عیسائی اوریہودی بڑی سطح پر علاقائی اور پیشہ ورانہ محدودیتوں کا شکار نہیں ہوئے جیسا کہ جدید یورپ میں عام طورپر یہودیوںکے ساتھ پیش آیا“۔
اسلام میں امن کا تصور:۔
بین مذاہبی تعلقات کے حوالے سے چوتھی اخلاقی بنیاد اسلام میں امن کا تصور ہے اسلامی اخلاقیات کے مطابق جس طرح اشیاءمیں اصل چیز اباحت ہے اسی طرح عام انسانی تعلقات میں امن۔
اسلام میں امن کا تصور اسلام کے بین اقوامی تعلقات کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے بعض فقہانے اس اخلاقی بنیاد کو زیادہ نقصان پہنچایا۔ فقہا نے بالکل برعکس طور پر امن کے دائمی تصور کی جگہ جنگ کے وقتی تصور کو دے دی اور دوسری قوموں کے ساتھ رجائیت کے بجائے قنوطیت پر تعلقات کی بنیاد رکھی۔ مسلم غیر مسلم تعلقات میں شروع سے یہی مسئلہ سب سے زیادہ نزاع کا باعث رہا ہے اور اس نے اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے میں بنیادی رول ادا کیا ہے۔
اسلام خود لفظ امن سے مرکب ہے۔ مسلمان ہونے کا مطلب ہے پُر امن ہونا اور دوسروں کو پُر امن رکھناا (المسلم من سلم الناس من لسانہ ویدہ)(۲۲) اس کے عملی اظہار کے لیے اسلام میں اس کو بنیاد بنایا گیا کہ ہر شخص ایک دوسرے کو السلام علیکم کہہ کر اس کی امن وسلامتی کی دعا کرے۔ اسلام میں جنگ خارج سے لاحق ہونے والی علت ہے نہ کہ داخل میں پائے جانی والی حقیقت۔ وہ ایک استثنا ہے نہ کہ باضابطہ حکم تقریباً اسی معنی میں فقہا نے بھی اسے ”حسن لغیرہ“ قرار دیا ہے ”حسن لوجہہ“ نہیں۔ قرآن میں صلح کو خیر کہا گیا ہے (الصلح خیر) پیغمبر اسلام نے اپنے پیرووں کو تلقین کی کہ تم دشمن کے رو برو ہونے کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے پناہ مانگو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نرمی پر جو کچھ دیتا ہے وہ سختی پر نہیںدیتا۔ نرمی کو سراپا خیر (خیر کلّہ) بتایا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ آسان انتخاب کو اختیار کرنے کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں“۔ پڑوسی سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، آپ کے بیان کے مطابق، حضرت جبریل علیہ السلام نے اتنی تاکید کی کہ انھیں لگا کہ کہیں پڑوسی کو آپ کا وارث نہ بنادیا جائے۔ پڑوسی ہونے میں بلااختلاف مسلم غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔
غلط فہمیوں کا ازالہ:۔
ان اہم نکات کے بعد جو ہمیں مسلم غیر مسلم تعلقات کی اخلاقی بنیادیں اوراقدار فراہم کرتے ہیں،ہم یہاں ان چند غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کریں گے جو نظریاتی سطح پر مسلم و غیرمسلم تعلقات کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس غلط فہمی میں مسلم غیر مسلم دونوں شریک ہیں۔ اس لیے ان دونوں کے ذہن کی صفائی ضروری ہے۔
مسلمانوں کا ایک رویہ فکری اور دوسرا جذباتی ہے۔ پہلے کا تعلق اسلامی تعلیمات واحکام سے ہے اور دوسرے کا ان کے اپنے طرز عمل سے ،جو حال کے سیاسی حالات اور ماضی کی بعض غلط روایات کی پیداوار ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں سے مثلاً یہ چند زیادہ بحث ومباحثے کا موضوع ہیں: قرآن میںغیر مسلموں سے دوستی کی ممانعت، غیر مسلموں سے جہاد یا قتال، اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی قانونی یا سماجی حیثیت، ارتداد کی سزا، غیر مسلموں کی نجات کا مسئلہ وغیرہ۔
مسلمانوں کے طرز عمل سے تعلق رکھنے والی بعض چیزیں یہ ہیں: خود کو جنت کا پیدائشی مستحق سمجھنا، اسلام کے عالمی سیاسی غلبے کومقدس مشن قرار دینا اور اس کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کرنا۔ غیر مسلموں کو خدا کی رحمت سے محروم اور ابدی لعنت کا مستحق سمجھنا۔سماجی تعلقات کے حوالے سے بعض دوریاں جو ثقافتی شناخت وغیرہ کے حوالے سے انھوں نے بنا رکھی ہیں۔ ان کا تعلق اسلامی احکام سے نہیں ہے اور مسلمانوں کی اکثریت انھیں ایک نقطہ نظر سے نہیں دیکھتی۔
ان تعلیمات واحکام کے تعلق سے اصولی طور پر دو باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے ایک یہ کہ ان کے مخاطب بنیادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اصحاب ہیں اور یہ یا تو ان کے عہد کے ساتھ خاص ہے یا ان کا تعلق وقتی اور ہنگامی صورت حال سے ہے۔ جس سے الگ کرکے انھیں دیکھنا غلط نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ جن پر پیغمبر اسلام نے تبلیغ کی حجت پوری کردی تھی اور انھیں وحی کے ذریعہ دانستہ طور پر ان کے انکار کا علم ہوچکا تھا۔ دوسرے وہ رسول واصحاب رسول سے برسرجنگ تھے۔ اور انھیں وہ بنیادی حقوق بھی دینے کو تیار نہیں تھے جو فطرت اور اخلاق کا تقاضا ہیں۔ قرآن میں اسی کو فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور رسول واصحاب رسول کو اسے ختم کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اسی طرح غیر مسلموں سے دوستی کا معاملہ ہے۔ مختلف آیات میں مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا ہے۔تاہم اس کے بالمقابل اُسی سورت( ممتحنہ) جس کی پہلی آیت میں ممانعت کا حکم ہے، کی آٹھویں اور نویں آیت میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ نے تمھیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگیں لڑیںاور تمھیں وطن سے نکالا۔ یا تمھیں وطن سے نکالنے والوں کی مدد کی۔ اگر علی العموم غیر مسلموں کے ساتھ محبت وتعلق کا معاملہ صحیح نہ ہوتو پھر اس تضاد کو رفع کرنا کس طرح ممکن ہوگا کہ ایک طرف اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کی اجازت دی جائے اور دوسری طرف ان سے محبت رکھنے کو منع کیا جائے۔ اسی طرح ارتداد کی سزا سے متعلق مسلم فکر میں اختلاف اور تفصیل ہے جس کو نظر انداز کر دیا گیا۔
اندلس کی اموی، عباسی اور عثمانی اور ہندستان کی مغلیہ حکومتوں میں غیر مسلموں کو مذہبی اور سماجی حقوق حاصل تھے، اس کا اعتراف خود غیر مسلم مورخین اور اسکالرس نے کیا ہے۔استثناکو چھوڑ کر مجموعی طور پر ان مسلم حکومتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ اکثر وہ تعصبات جوبعض فقہاءکی آرا کی شکل میں ان کتابوں میں موجود ہیں، باقی نہیں رہے تھے، جزیہ اسلام میں کوئی نئی چیز نہیں ہے، وہ رومی اور ایرانی وراثت کے طور پر پہلے سے عرب میں موجود تھی۔ چنان چہ خود لفظ جزیہ قدیم فارسی لفظ(گزیت) کی عربی شکل ہے۔(۲۳ )۔
اسلام کا دائمی قانون عہد یا معاہدہ ہے۔ اس اعتبار سے جن غیر مسلم ملکوں میں مسلمان یا مسلم ملکوں میں غیر مسلم رہ رہے ہیں، وہ ایک عملی معاہدے میں بندھے ہوئے ہیں۔ جن کی اخلاقی ودینی سطح پر پابندی لازمی ہے۔ اگر متعلقہ ملک کا قانون ان میں سے کسی کے لیے دینی یا سماجی حیثیت سے سازگار نہیں تو ان کے سامنے صرف یہ انتخاب ہے کہ وہ اس ملک سے ہجرت کرجائیں۔ معاہدے کے اقرار کے باوجود اس ملک کے خلاف سرگرم ہونا اپنے دینی حقوق کے لیے تحریکیں برپاکرنا، اخلاقاً صحیح نہیں ہے۔
جہاں تک غیر مسلموں کی نجات یا خدا کی رحمت ومغفرت کے ان کے مستحق ہونے کا معاملہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا عیسائیت، یہودیت مسلمانوں کو نجات کا مستحق سمجھتی ہے؟ آخرت کے حوالے سے ہر فرقے کو یہ سمجھنے کا حق ہے کہ وہ صحیح اور دوسرا غلط ہے۔ دوسری کوئی بھی شکل نفاق اور تذبذب کو جنم دینے والی ہے۔ صحیح رویہ خود کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسروں کو برداشت کرنے اور ان کے عقیدہ وعمل کے احترام کا ہے نہ کہ ان اختلافات کا سرے سے انکار کرنے یا ان کو مٹانے کا، جو بنیادی عقائد کی سطح پر مختلف قوموں کے درمیان موجود ہیں۔
باقی جس طرز عمل کا تذکرہ اوپر آیا، اس کا تعلق مسلمانوں کے ذہنی زوال اور فکری تعطل سے ہے۔ ثقافتی شناخت وغیرہ کی تعبیر مسلمانوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے اس کی نظریاتی بنیاد کمزور ہے بعض احادیث میں دوسری قوموں کی مشابہت اختیار کرنے کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے اسے اس تناظر میں دیکھنا چاہیے جب کہ ایک نئی ثقافت پروان چڑھنے کے ابتدائی مرحلے میں تھی۔ اخذورد کا سلسلہ جاری تھا۔ اس کا ڈھانچہ بن کر تیار نہیں تھا۔ اس لیے پیغمبر کی زندگی کے ایک حصے میں بعض چیزوں کے تعلق سے جو سختی یا پابندی تھی وہ بعد میں ختم ہوگئی۔ ایک عالم گیر مذہب میں ثقافتی شناخت کا اعتبار ہو بھی نہیں سکتا کیوں کہ پوری دنیا کو ایک ثقافتی رنگ میں رنگنا سرے سے محال امر ہے ۔ موجودہ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ مظاہر کی سطح پر ایسی ثقافتی شناخت کو ترک کرچکا ہے۔
غیر مسلموں کو سلام کرنا، ہدایا کا تبادلہ، ان کی تعزیت یا عیادت، ان کی ضیافت، تقریبات میں شرکت، تہواروں پر انھیں مبارکباد دینا، انھیں گواہ بنانا، ان کے برتنوں اور کپڑوں وغیرہ کا استعمال، یہ تمام بحث ومباحثے جو ہماری متاخر دور کی فقہ نے پیدا کئے، وہ عام انسانی اخلاق کے تصور سے بھی میل نہیں کھاتے کجا کہ ہم اسلام کے عالم گیر تصور اخلاق کے فریم ورک میں رکھ کر اس کی تردید کریں۔(۲۴)۔
یہ عہد وسطیٰ کے اس ماحول کی پیداوار ہے جب فقہ کو اسلامی سماج کے بعض طبقات نے ایک پیشے کی شکل میںاختیار کرلیا تھا (۲۵) اور اس پر تکنیکیت کا رنگ غالب آگیا تھا۔ لیکن بہرحال عہد وسطی کی باقیات کی شکل میں یہ ایک اہم چیلنج ہے کیوں کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کا ذہن بلاشبہ اس سے متاثر ہے۔
مسلم غیر مسلم تعلقات کے لیے ہم اسلام کے جس کی بات کررہے ہیں، اس کے بغیر مسلم غیر مسلم تعلقات کے مطلوبہ تصور کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے۔ اس اعتبار سے ہمارے سامنے بڑا چیلنج اصلاً نظریاتی ہے۔ اس نظریاتی چلینج کے جواب کے لیے اسلامی فکر کی تشکیل جدید ضروری ہے جس کی اصولی بنیاد اسلام کا وسیع اخلاقی تصور ہو اور وہ اجتہادی طریقہ کار کے ذریعہ عمل میں آئے۔یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ وہ شروع بھی ہوچکا ہے اگر چہ موجودہ سیاسی ماحول اس کے لیے سازگار نہیں ہے۔ اس وقت اس کی جس قدر شدید ضرورت ہے، اتنا ہی وہ مشکل بھی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کا ذہن ما بعد استعماریت کا شکار ہے۔ دوبارہ غور و خوض اوراصلاح کے عنوان سے بعض اسلامی نظریات میں نظرثانی کی جو تحریک مغرب خصوصاً امریکا میں اس وقت زور وشور کے ساتھ چل رہی ہے وہ امریکی حکومت کی جارحانہ سیاست کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کی فکری اصلاح ایک داخلی معاملہ ہے اسے خارج سے مسلط نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے رویہ ترک کرکے رویہ اختیار کیا جانا چاہیے اور کنونسنگ کا عمل فریق ثانی کے ایسے معتبر دینی و سماجی حلقوںکی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں جن پر مسلمانوں کی با شعور اکثریت اعتماد کرتی ہو۔ضرورت یہ ہے کہ یہ کام مسلمانوں کے سنجیدہ دانش ور طبقے کے داعیے کی بنیاد پر ہو۔ بنیادی کوشش اس داعیے کو پیدا کرنے کی کی جانی چاہیے۔
ڈائلاگ:۔
اسلامی اخلاق کے تناظر میں بین مذاہبی تعلقات کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے سب سے اہم اور بنیادی چیز ڈائلاگ ہے۔ اسلامی فکر کی تشکیل یک طرفہ عمل ہے۔ اسے مسلم اہل فکر اور علماکو کرنا چاہیے جبکہ ڈائلاگ ایک دو طرفہ عمل ہے اور وہ دونوں فریقوں کے مخصوص طبقات تک بھی محدود نہیں۔ مختلف سیاسی، سماجی اور دینی میدانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان ڈائلاگ ہوسکتا ہے۔اسلامی فکر کی تشکیل جدید میں بھی ڈائلاگ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈائلاگ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ اسے کسی خاص ماحول اور پس منظر میں نہیں دیکھا جاسکتا، جیسا کہ آج دیکھا جارہا ہے۔ ہمیں ڈائلاگ کی ضرورت اس وقت اتنی شدت سے صرف اس لیے معلوم نہیں ہورہی ہے کہ موجودہ گلوبل ویلج میں ہمیں تہذیبی تصادم کے آثار نظر آرہے ہیں، جن کو ختم کرنا ضروری ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ ماضی میں یہ کام نہیں ہوا۔ ڈائلاگ کا اہم مقصد ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننا ہے جس میں خاص طور پر دوسرے کی تہذیب وعقائد سے واقفیت ہے۔ ماضی میں اس کے دو ذریعے تھے: (۱) مناظرانہ بحث و مباحثے (۲)اوراپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے کے مذہب کو اختیار کرنے والے لوگ یہ دونوں ہی ذریعے مثبت اور سنجیدہ نہیں تھے۔ پہلے کی وجہ تو ظاہر ہے دوسرے کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص اپنے مذہب کو ترک کر کے دوسرے مذہب کو اختیا کرتا ہے تو فطری طورپر اس کا ذہن پہلے مذہب کی صرف خامیوںپر مرتکز ہوتا ہے۔
دوسرے اس کا رخ مشنری عمل پر مبنی تھا، یعنی یہ کہ ہم کس طرح دوسرے کو اپنے مذہب کی طرف راغب کر لیں اور اسے اپنے دائرے میں شامل کرلیں حالاں کہ ڈائلاگ کے عمل کو اس سے وسیع اور مذہب کے بجائے انسانی بنیادوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ انسانی بنیادیں وہ اخلاقی و انسانی اقدارہوں جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں۔ ڈائلاگ قرآن کے مطابق، ایک اسلامی فریضہ ہے۔ قرآن کی تیسری سورت میں باضابطہ اس کا حکم دیا گیاہے(۲۶)مسلم ذہن میں اس کے تئیں جو رکاوٹ ہے اس میں بنیادی دخل عالمی سیاسی حالات کا ہے جس کی زد میں پوری دنیا کے مسلمان ہیں ۔ ڈائلاگ کا عمل صرف ایک شکل میں جاری رہ سکتا ہے اور وہ شکل یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے سامنے ایک مشترکہ ہدف ہو جسے دونوں فریقوں کی طرف سے پانے کی کوشش کی جائے۔ ہم نے اس مشترکہ ہدف کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ورنہ ہم مستقل اس سوال کا جواب ڈھونڈنے اور پانے کی کوشش کرتے کہ کیا ہم نے و ہ مشترکہ ہدف حاصل کرلیااور اس طرح متحرک رہتے۔ موجودہ ماحول میں ہمیں اس کے لیے جتنی چیزیں آگے لے جانے والی ہیں، اس سے کچھ کم پیچھے کھینچنے والی نہیں ہیں۔
کسی نے کہا ہے کہ:۔
The earth can not be changed for the better unless the consciousness of individuals changes first
ڈائلاگ میں مشغول فریقوں کی یہ ذہنی تبدیلی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ دونوں اصولی طور پر یہ احساس رکھتے ہوں کہ(مذہبی عقائد ونظریات سے قطع نظر) ہم ایک حد تک غلط اور دوسرا فریق ایک حد تک صحیح بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بات کہ ہم سو فیصد صحیح ہیں اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرافریق سو فیصد غلط ہے۔ ڈائلاگ ہمیشہ اپنے آئیڈیل سے سمجھوتہ کرنے، دوسرے سے متعلق اپنی معلومات پر نظرثانی کرنے اور دوسرے کو خود اس کے ذہن سے اس کے اصول و ضوابط کی بنیاد پر سمجھنے کا نام ہے نہ کہ اپنے اصول و ضوابط کی بنیاد پر۔
حواشی
(۱)فتح الباری۱/۱۷۲(۲)مسلم کتاب الایمان،فتح الباری ۱/۷۱(۳)النسائ: ۱(۴)الحجرات: ۱۳(۵)بیہقی(۶)التین: ۴(۷)بخاری کتاب الاستیذان(۸)بنی اسرائیل: ۷۰(۸)در مختار(۱۰)فتح الباری ۳/۲۲۱(۱۱)البقرہ: ۳۰(۱۲)ابو داﺅد ۔ ترمذی(۱۳)الاعراف : ۸۴،۷۳، ۶۵ وغیرہ(۱۴)فاطر: ۲۷(۱۵)البقرہ : ۲۵۶(۱۶)الکہف : ۲۹(۱۷)المائدہ: ۴۸(۱۸)المائدہ: ۸(۱۹)سیرت ابن ہشام ۔ اس سے پہلے کا جملہ یہ ہے کہ یہود بنی عوف اور ان کے اعوان و انصار مومنین ہی کی ایک امت شمار ہوںگے۔( و ان یہود بنی عوف و موالیہم و انفسہم امة من المومنین) ص ۲۰۴(۲۰)الحج: ۴۰(۲۱)برنارڈ لیوس:۔
The jews of Islam P-8 quoted by Adnan Aslan in Religious pluralism in christian and islamic philosophy-p-191
(۲۲)نسائی(۲۳)مقالات شبلی ج۲۲/۲۲۱(۲۴)اس موضوع پرمختلف نقطہ ہائے نظر اور تکنیکی مباحث کے لیے دیکھئے:” غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل“۔ ایفا پبلی کیشنز، نئی دہلی(۲۵) احیاءالعلوم ص : ۲۲/۱

Friday, November 13, 2009

Muslim Mua'ashere ka Zawal Aur Ulama ki Zimmedariyan

مسلم معاشرے کا زوال اور علما کی ذمہ داریاں
وارث مظہری
اس وقت ہر طبقے میںیہ احساس پایا جاتا ہے کہ مختلف پہلوﺅں سے مسلم معاشرہ تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے۔ وہ خصوصیات و امتیازات جس سے مسلم اور غیر مسلم معاشرے میں فرق قائم ہوتا تھا، وہ بعض مذہبی اعمال اور ظاہری تشخص کی حد تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ ان خصوصیات و امتیازات کے اجتماعی انسانی سطح پر رونما ہونے والے وہ نتائج جو اسے دیگر معاشروں کی نظر میں قابل رشک حیثیت عطا کرتے ہوں، دوسروں کی نظر میں ہی نہیں خود ہماری نظر میں بھی سامنے نہیں آرہے ہیں۔ علما مسلم معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو معاشرے کو صحیح اور متوازن رخ پر گام زن رکھنے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلم سماج کی تشکیل و اصلاح میں دوسرے تمام طبقات کا رول ضمنی جبکہ علما کا رول اساسی اور جامع ہے۔ مسلم سماج کے اصل پاسبان وہی ہیں ان کی اس حیثیت کی تعیین رسول اللہ کی اس مشہور حدیث سے ہوتی ہے جس میں انہیں ” انبیاءکا وارث“ کہا گیا ہے( العلماءورثة الانبیائ(بخاری باب العلم)) اسلامی تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلم سماج نے علما کو ہمیشہ رہنماکے مقام پر رکھا۔ اس میں عموماً قابل ذکر کمی اس وقت آئی جب حکمراں علما کو اپنے دامن ظلم و فریب میں پھنسانے میں کامیاب ہو گئے۔ یا دوسرے طریقوں سے علما دنیا کی ہوس میں مبتلا ہو کر شاہراہ علم و عمل سے ہٹ گئے۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں طبقہ علماکی اکثر تعداد عزم و استقامت پر قائم رہتے ہوئے اپنے بنیادی اجتماعی فرائض کی انجام دہی پر قائم رہی۔

موجودہ دور میں یہ سوال بکثرت اٹھایا جاتاہے کہ مسلم سماج کی اصلاح اور اس کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنے کے تعلق سے علما کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ انہیں کس حد تک نبھانے میں کامیاب ہیں؟ سماج کے تعلق سے محاسبہ سماج کے ہر طبقے سے ہونا چاہیے۔ اس میں علما کا کوئی اختصاص نہیں، لیکن مختلف وجوہات سے علما پر احتساب کی نگاہ بجا طورپر زیادہ ٹھہرتی ہے۔ ان میں تین وجوہات خاص اور نمایاں ہیں

٭ قرآن و حدیث کی رو سے علما کو دوسرے طبقات پر فضیلت ان کی اجتماعی ذمہ داریوں کی بنا پر عطا کی گئی ہے۔ اگر وہ ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں تو اپنے مقام پر باقی نہیں رہتے اور اس صورت میں وہ خود دوسروں کو تنقید کا موقع دیتے ہیں۔

٭ خود علما اس بات کے مدعی ہیں کہ انھیں مسلم سماج کی رہنمائی اور قیادت کا مقام حاصل ہے اور اس حیثیت میں وہ اعزاز و احترام کے مستحق ہیں۔

٭ ہندوستان جیسے ملکوں میں فی زمانہ طبقہ علما کی اکثریت معاشی سطح پر عوام پر انحصار کرتی ہے۔ یہ انحصار عوام کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ علما کا محاسبہ کریں۔ اس کے علاوہ اسلام کی عمومی اسپرٹ بھی یہ ہے کہ سماج کا ہر طبقہ اور ہر فرد دوسرے کو خیرکی تلقین کرنے والا اور برائیوں پر ٹوکنے والا ہو۔

اس میں شک نہیں کہ مسلم سماج میں خیر و فلاح کے جواثرات اور مذہبی اقدار کی جو شکلیں محفوظ و برقرار ہیں ان میں علما کا اہم رول ہے۔ اگر علما کو پس منظر سے ہٹا دیا جائے تو مسلم سماج دوسرے سماجوں کی طرح مختلف ایسی اجتماعی خرابیوں کا شکار ہو جائے گا جو سرے سے اسلامی تعلیمات کی نفی کے ہم معنی ہیں۔ لیکن اس وقت بر صغیر ہند کے تناظر میں علما کے اجتماعی کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو نہایت الم ناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ علما کا طبقہ آہستہ آہستہ بذاتِ خود اپنے آپ کو اجتماعی ذمہ داریوں سے علاحدہ کرتا جا رہا ہے یا دوسری صورت میں اس طبقے کو موجودہ تقاضوں کی روشنی میں رہنمائی کی صفت سے محروم ہونے کی بنا پر عوام نظر انداز کرتے جا رہے ہیں۔ نظر انداز کرنے کے اس عمل کو علما عوام کی گمراہانہ اور غیر اسلامی روش کی شکل میں دیکھتے ہیں جبکہ عوام کھلے طورپر علما پر یہ الزام عائد کر تے ہیں کہ ظاہری اسلامی صورت کے علاوہ، جو ان کی شناخت کا وسیلہ ہے، علما اخلاقی سطح پر عوام سے بلند نہیں ہیں، بلکہ عوام بہت سی چیزوںکا ارتکاب گناہ سمجھ کر کرتے ہیں جبکہ ہمارے علما بہت سے کبائر کو حیلوں اور تاویلات سے اپنے حق میں جائز کر لیتے ہیں۔

سماجی اصلاح کی دو سب سے اہم بنیادیں ہیں: تعلیم اور اخلاقیات۔ قرآن میں کار نبوت کے حوالے سے ان دونوں چیزوں کا تذکرہ اس آیت قرآنی میں موجود ہے: ربنا و ابعث فیہم رسولا منہم یتلو علیہم آیاتک و یعلمہم الکتاب و الحکمة و یزکیہم انک انت العزیز الحکیم۔” اے ہمارے رب ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور ان کے باطن کی صفائی کرے۔“ (۲/۱۲۹) ان دونوں چیزوں کے مختلف پہلو ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے اہم پہلو ہے: دین کی بنیادی تعلیمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا۔ حقیقت یہ ہے کہ علما نے اس پہلو پر کافی محنت کی۔ بر صغیر ہند پر انگریزی عمل داری قائم ہو جانے کے بعد یہ مسئلہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہو کر رہ گیا تھا۔ لیکن علما نے مستقل جد و جہد اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعہ اس محاذ پر کامیابی حاصل کی۔

البتہ تعلیم کا دوسرا پہلو قوم کی فکری تشکیل و تعمیر کا ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں یہ کام خاص طورپر1947میں آزادی کے بعد علما کی دوسری نسل کو انجام دینا تھا لیکن یہ کام سرے سے انجام نہیں دیا جا سکا۔ کسی قوم کی ذ ہنی تعمیر ہی در اصل اس قوم کی تمدنی ارتقا کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم ذہنی سطح پر زمانے کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتی اور دوسری مقابل اقوام کی ذہنی صلاحیتوں کا ساتھ نہیں دے پاتی تو عین فطرت کے بے لچک قانون کے مطابق وہ حاشیہ پر آجاتی ہے۔ علما کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی نسلوں کے اذہان کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے بعد انھیں فطرت کے بطن سے پیدا ہونے والے علوم و حقائق سے آگاہی کا بندوبست کریں۔ کیونکہ صرف ذہن کا اسلامی سانچے میں ڈھلنا، مذہبی معلومات اور ما بعد الطبعیاتی معارف سے آشنا ہونا اس منصوبے کی عملی تشکیل کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایک ایسی نسل وجود میں آجائے جو خدا کے نقشے کے مطابق، انسانی سماج کو ترقیات کی بلندیوں تک لے جانے والی ہو۔

دوسری چیز اخلاقیات ہے جو دین کی اصل روح اور پیغمبروں کی بعثت کا اصل مقصد اور نشانہ ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ : بعثت لاتمم حسن الاخلاق( میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔موطا) علما نے مسلم نسلوں کی اخلاقی تربیت و تزکیے کے پہلو کو بہت حد تک نظر انداز کر دیا۔ اس کے نقصانات فطری طورپر اس شکل میں سامنے آئے کہ ہماری نسل چاہے وہ مدارس سے اٹھنے والی ہو یا جدید دانش گاہوں سے۔ عام انسانی اخلاقیات کو بھی سماجی سطح پر برتنے میں کمزور ہے کجا کہ وہ اس کا اعلیٰ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اگر مدارس کے ارباب انتظام و اہتمام خود اپنے طبقے کے علما و فاضلین کے استحصال میں کوئی کسر نہ چھوڑیں؟ جمہوریت کی تمام شکلوں کو پامال کر کے تمام وسائل و ذرائع پر اپنا اور اپنی اولاد کا قبضہ بحال رکھیں۔ بلند و بالا مساجد اور فضول وغیر ضروری یا نمائشی عمارتوں کی تعمیر میں اپنے پڑوس کے ان غربا اور مریضوں کو نظر انداز کر دیں جن کے یہاں مشکل سے چولھے جلتے ہیں اور جو مناسب دواﺅں کی بر وقت فراہمی سے عاجز رہ جانے کی بنا پر اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں، تو ایسی صورت میں انہیں معلمین اخلاق کے منصب پر بٹھانے کے لیے کون اور کیوں تیار ہوگا؟ اسی طرح خود علما کے ذریعہ چلائے جانے والے دوسرے دینی و سماجی اداروں کا نظام تصادم، داخلی خانہ جنگی، بے اصولی، بد دیانتی، اقربا پروری، نا اہلیت اور اس طرح کی دوسری قابل ذکر اجتماعی امراض کی آماجگاہ ہو تو آخر کس طرح علما کو یہ سرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کو پھیلانے اور ان کا احیا کرنے والے ہیں؟

سماجی اصلاح کی بنیاد سماج کے باشندوں کے اخلاقی ارتقا پر ہے۔ اگر ان میں سماجی اخلاق نمو پانے سے قاصر ہیںتوسماجی اصلاح کا عمل دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

علما کی طرف سے ایک افسوس ناک روش قومی تعصب میں اجتماعی اخلاقیات کو نظر انداز کر دینا ہے۔ اس کو ایک مثال کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ 2007میں جامعہ نگر اوکھلا میں پولیس کے ذریعہ مبینہ طورپر قرآن کی بے حرمتی کا معاملہ سامنے آیا۔ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ نے جامعہ نگر پولیس چوکی کو آگ لگا دی۔ قریبی دوسری پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور اس طرح نہایت اشتعال انگیز اور سنسنی خیز کیفیت پیدا ہو گئی۔ بعد میں علاقے کے ہر با شعور پر معاملے کی حقیقت واضح تھی کہ یہ محض نوجوانوں کی شرارت ہے کیونکہ قرآن کے پارے پولیس والے کی غلطی سے گرے تھے نہ کہ دانستہ طورپر، لیکن راقم الحروف نے بعض طویل القامت علماکی زبان سے خود سنا کہ اگرچہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ غلطی خود ہمارے نوجوانوں کی ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ کافی طول پکڑ چکا ہے اس لیے اب اس صورت میں ہمیں سیاسی مصلحت کے تحت اسی( غلط) موقف کی تائید کرنی چاہیے۔

آخر یہ عین قومی تعصب نہیں تو کیا ہے جس پر اللہ کے رسول نے وعید سنائی ہے ۔اور اسے گڑھے میں گرے ہوئے اونٹ کو اس کی دم کھینچ کر بچانے سے تشبیہ دی ہے۔ اکثر قومی معاملات میں ہمارا رویہ ہمارے اس قومی تعصب و جانب داری کا آئینہ دار ہوتاہے۔ ایسی مثال عنقا ہے کہ ہمارے علما کی لیڈر شپ نے ایسے اجتماعی معاملات میں انصاف وغیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کی غلطی کا اظہار و اعتراف کیا ہو۔ بنیادی طورپر علما نے ملت کی اکثر صورت میں دفاع کو ہی سیاسی اخلاق کا بنیادی فلسفہ بنا رکھا ہے۔

علماکے اندر اصلاح معاشرہ کی فکر اور اس کا چرچا پایا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا تصور صرف اس حد تک محدود ہے کہ مسلم معاشرے کو غیر مسلم اثرات سے پاک کیا جائے ۔ اس تناظر میں بھی صرف چند غیر اسلامی سماجی رسوم اور مظاہر پر نظر ٹھہر کر رہ جاتی ہے۔ جبکہ سماجی اصلاح کا مطلب انسان کے انفرادی و اجتماعی اعمال کی اس طرح ترشید (channalisation) کرنا ہے کہ وہ بحیثیت مجموعی سماج کے تمام تر طبقات اور گروہوں کے لیے خوبی اور خیر خواہی کا ضامن ہو۔ سماجی اصلاح کی بنیاد پر سماج میں امن اور عدل کی فضا قائم ہو جو ہر شعبے میں سماجی ترقیات کی بنیاد ہے۔

علما کی سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے چند مزید نکات قابل غور ہیں۔ یہ حتمی نہیں لیکن ان کی روشنی میں بحث کے بعد کسی با ضابطہ نتیجے تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے

٭ علماپر ملی و قومی سیاست بہت تیزی کے ساتھ حاوی ہوتی جا رہی ہے ۔ بدقسمتی کا پہلو یہ ہے کہ بے صلاحیت اور با صلاحیت، دیندار اور دنیا پرست علماکا قد اس صف میں بالکل برابر ہے۔ نتیجہ کے طورپر عوام فریب اور کنفیوژن کا شکار ہیں کہ وہ کس کو ماڈل اور اسوہ بنائیں کس کی بات پر لبیک کہیں اور کس کی بات کو نظر انداز کردیں۔ قومی و ملی سیاست میں اس غلو آمیز انہماک کی وجہ سے خود اپنی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی تعمیر کے لےے کوشاں ہونے کی ذہنیت ماند پڑتی جارہی ہے۔

٭ سماج کی اصلاح صرف شریعت کی دہائی دینے اور اس کے نفاذ کی کوششوں کے ذریعہ ہی ممکن نہیں ہے ۔ فتاویٰ کے زور پر معاشرے کے غلط اور تخریبی رجحانات کوبدلا نہیں جا سکتا ۔ اس کے ذریعہ متعلقہ شرعی پوزیشن کو صرف ان لوگوں کے سامنے جو حقیقت میں شریعت کو اپنی فکر و عمل میںاصل مقام دیتے ہوں ،واضح کیا جاسکتا ہے ۔ اصل چیز صرف ذہنی اور فکری تربیت ہے اور اس کے لیے سماج کے ہر ہر شعبے میں رچ بس کر خاموشی اور صبر کے ساتھ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

٭ عملی سطح پر ماضی کو ماڈل بنا کر پیش کرنے سے زیادہ موثر مستقبل کے آئینے کو سامنے رکھنا ہے۔ ماضی کو پانے کی اندھا دھند دوڑ حال کے تقاضوں سے بے خبری پر منتج ہوئی ہے۔ علما کا ماضی سے زیادہ حال سے با خبر اور مستقبل شناس ہونا ضروری ہے۔

٭ مدارس سماجی اصلاح کے عمل میں سب سے اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔بہت سے اہم سوشل ریفارمر مدارس کی گود سے ہی پروان چڑھ کر سامنے آئے۔ مدارس خصوصاً بڑے مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باضابطہ سماجی اصلاح کے شعبے اپنے یہاں قائم کریں۔ ان کے تحت طلبہ کو سماجی اصلاح کی تربیت دی جائے۔

٭ سماجی اصلاح کے عمل میں مساجد کے ائمہ کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ غیر تربیت یافتہ ائمہ بسا اوقات مسلم سماج میں مزید انتشار اور کمزوری کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کی باضابطہ تربیت کا نظم مذکورہ بالا شعبہ تربیت کے ذریعہ ضروری ہے۔دوسری صورت میں ملت کے دوسرے سماجی و دینی اداروں کو الگ سے اس کا نظم کرنا چاہیے۔ ائمہ کی با شعور ،اسلام کی حقیقی اجتماعی اسپرٹ اور سماجی اصلاح کا سنجیدہ جذبہ رکھنے والی جماعت مسلم سماج کی اصلاح کی سب سے بڑی نقیب بن سکتی ہے۔

بہر حال مسلم سماج میں اصلاح کا عمل بہت دھیما رہاہے اور اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ علماکا یہ احسا س اطمینان بھی ہے کہ مسلم ( یا اسلامی) سماج دوسرے سماجوں کے مقابلے میں بہرصورت فائق اور قابل رشک ہے حالاںکہ قابل رشک ہونے کا یہ مفہوم نہایت تنگ، خوش فہمی پر مبنی اور اس بناپر دوسروںکو مطلقاً قائل کرنے والا نہیں ہے۔

Islam Tashaddud Pasandi Aur Musalman

اسلام تشدد پسندی اورمسلمان
وارث مظہری
اس وقت مشرق و مغرب کے بعض حلقوں میں اسلام پر اس حیثیت سے بحث کی جا رہی ہے کہ اس کا سیاسی نظریہ انسانی سماج میں تشدد کے فروغ میں معاون ہے۔ بعض انقلابی مسلم تحریکات جو اپنے علاقائی حالات یا بین اقوامی سیاسی صورتحال کی پیداوار ہیں، کے تشدد کے رجحانات کو اسلام کی تعلیمات سے وابستہ کر کے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ایک نہایت افسوس ناک امر ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ مسلمانو ںکے اصحاب حل و عقدخصوصاً مذہبی قائدین اور سماجی کارکنان اس غیر سنجیدہ اور بے بنیاد الزام سے مشتعل اور دل برداشتہ ہوکر اس پہلو پر بھی غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہےں کہ اگرچہ اسلام تشدد کی اجازت نہیں دیتا تاہم تشدد کے مظاہر مسلم سماج میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ بالخصوص جبکہ مسلمانوں کے اندر سے اٹھنے والی بہت سی یا اکثر مسلم تحریکات اپنے فکر و عمل کا ماخذ اسلام کو ہی بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

کوئی بھی نظریہ تشدد کو ایک مستقل وسیلے اور طریقہ کار کے طورپر اختیار کرتے ہوئے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے کہ یہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ اس کو اختیار کرنے کا مطلب ہے انسانی سماج میں انتشار و خلفشار کا لا منتاہی سلسلہ اور اس کی تباہی و بربادی۔ اس معنی میں وہ خود اپنی نفی ہے۔ اسلام سب سے زیادہ اخلاقی تعلیمات پر زور دینے والا مذہب ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میں اخلاقیات کی تکمیل کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہوں( مو طائ) اس لیے قرآن میں سب سے زیادہ اجتماعی اخلاقیات پر زور دیا گیا ہے۔ خدا اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کی اس طرح دینی تربیت کی گئی ہے کہ وہ خدا کے اخلاق کو پا سکے (تخلقوا باخلاق اللہ ۔حدیث)۔ اس تعلق سے جن امور پر اس میں زور دیا گیا ہے ان میں اہم صبر، عفو و در گزر، اعراض، عدل و احسان وغیرہ ہیں۔ صبر کا ذکر قرآن میں تقریباً سو مرتبہ آیا ہے۔ بار بار مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ نا پسندیدہ چیزوں، حادثات اور مصائب پر صبر و برداشت کا رویہ اختیار کریں۔ ۔ قرآن میں کہا گیا کہ اگر تم صبر اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو تمہیں دشمنوں کی سازش کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی(آل عمران:۱۲۰) صبر کا بدلہ جنت قرار دیا گیا ہے(الانسان:۷۶) عدم تشدد کی بنیاد صبر و برداشت کا رویہ ہے۔ جہاں سے صبر کا دامن چھوٹتا ہے وہاں سے تشد کی ابتدا ہوتی ہے۔ اسی لیے حدیث میں تنگی اور ظلم و نا انصافی کے حالات میں کشادگی کے انتظار کو افضل عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اعراض کا رویہ اختیار کریں۔ مسلمانوں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنے کی قرآن و حدیث میں درجنوں مقامات پر شدت کے ساتھ تلقین موجود ہے: اللہ تعالیٰ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔“ ”کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل نہ کرو بلکہ تم عدل کرو“۔ قرآن دشمن کو امکانی طورپر ایک قریب ترین دوست کی شکل میں دیکھتا ہے ۔(فصلت: ۳۴)پیغمبر اسلام کو یہ کہہ کر نرمی کی روش اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی : ”اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے دور ہو جاتے۔“

انگریزی کی کہاوت ہے کہ جنگ ہمیشہ ذہنوں میں پرورش پاتی ہے۔ انسانوں کے باہمی تعلقات اور سماجی زندگی کے حوالے سے قرآن جن اخلاقیات پر زور دیتا ہے ان کا مقصد انسانی ذہن سے انہی منفی عناصر کو ختم کرنا ہے جو انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوتے اور ایک کو دوسرے کے تئیں تشدد و جارحیت پر مائل کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمیشہ سختی کے مقابلے میں نرم رویہ احتیار کرنے کا تھا۔ ایسے بہت سے واقعات حدیث و تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ بہت سے یہودی آپ کو اسلام علیکم کی جگہ السام علیکم کہتے تھے۔ ایک ایک موقع پر آپ کی بیوی حضرت عائشہ نے اس کے جواب میں کہاکہ : تم پر اللہ کی لعنت ہو اور اس کا غضب۔“ اس سخت رد عمل پر پیغمبر اسلام نے حضرت عائشہ کو فوراً ٹوکا:” اے عائشہ اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ دیتا ہے جو وہ سختی یا کسی اور چیز پر نہیں دیتا“۔ آپ کی سیرت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کنفرنٹیشن سے بہر صورت احتراز کرتے تھے۔ خواہ معاملہ کتنا ہی اہم اور دین کی اہم بنیاد سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو۔ چنانچہ آپ کعبہ کو ، جس کی بنیاد صحیح ابراہیمی بنیاد سے ہٹی ہوئی ہے، اپنی اصل پر قائم کرنا چاہتے تھے لیکن آپ نے مقابلہ آرائی سے بچنے کے لیے ایسا نہیں کیا۔ آپ تیرہ سالوں تک مکہ میں رہے لیکن آپ نے دشمنوں کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھایا۔ مدینہ میں آپ نے ایک عمومی معاہدہ کر کے اپنے مخالف یہودی اور مشرک قبائل کو اپنے ساتھ کر لیا ۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات بالعموم کافی خوشگوار رہے۔ اسپین جو مسلمانوں کی تہذیبی بالا دستی کا نشان تھا یہاں یہودی اقلیت کو مسلمانوں کی سرپرستی میں ہر طرح سے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع ملا۔۱۴۹۲ءمیں اسپین سے مسلم حکومت کے عہد خاتمے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، اس صورتحال میں بے یار و مددگار مظلوم یہودیوں کی مدد کرنے والی اور آگے بڑھ کر ان کو پناہ دینے والی حکومت عثمانی ترکی حکومت تھی۔ ترکی سمیت عرب کے بہت سے ملکوں میں یہودیوں کی قدیم آبادیاں موجود ہیں۔ برنارڈ لوئیس جیسے امریکہ نواز یہودی مصنف نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے ۔ ان ملکوں میں ان کی تعداد میں کمی اس وقت آئی جب انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلمانوں کی طرح سے تعلیم اور معاشیات کے لیے مغربی ممالک کا رخ کیا۔

لیکن اسلام کی اس امن و اخلاقیات کی تعلیم اور مسلمانوں کے رواداری کی تاریخ اپنی جگہ، مسلمانوں کے بعض حلقوں میں موجودہ دور میں تشدد پسندی کے رجحان کا ظاہرہ نہایت افسوس ناک ہے۔اگرچہ یہ صحیح ہے کہ اس رجحان کے فروغ میں بعض اہم علاقائی اور عالمی سیاسی عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ بات اس رویّے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس ظاہرے سے آنکھیں بند کر لی جائیں اور یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسی میںمسلمانوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔

پہلی قابل غور و تشویش بات تو یہ ہے کہ یہ تحریکا ت جو مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہےں ،اپنی تمام تر سرگرمیاں اسلام کے نام پر چلا رہی ہیں۔ اسی سبب سے انہیں اسلام پسند بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اسلام سے ہی اپنے عمل کا جواز ڈھونڈتی اور پیش کرتی ہیں۔ اس صورت حال میں غیر مسلموں کی ایسی ایک تعداد کا ،جس نے اسلام کا براہ راست مطالعہ نہیں کیا ہے، ذہن خراب ہونا یقینی ہے۔ اسی لےے مغربی و مشرقی ملکوں میںاسلام کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔

تشدد کے اس ظاہرے کے پنپنے میں دوسرے بہت سے عوامل کے علاوہ مسلمانوں کی سنگین غفلت اور کوتاہ اندیشی کا بہت کچھ دخل رہا ہے۔ یہاں میں اس کے د و پہلوﺅں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنا چاہوںگا۔ایک کا تعلق مسلمانوں کی داخلی صورت حال سے ہے اور دوسرے کا تعلق مسلمانوں کی خارجی صورت حال سے۔
مسلمانوں میں داخلی سطح پر اختلافات ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں بلکہ بعض ضمنی امور سے قطع نظر اکثر اختلافات اور تنازعات کا تعلق ماضی کی علمی روایات سے ہے ،جو ماضی میں تو علمی بحث و مباحثے کے دائرے میں تھیں لیکن موجودہ دور میں انھوں نے بغض و نفرت پھر سماجی سطح پر با ضابطہ باہمی کشمکش اور پھر اس سے آگے بڑھ کر قتل و خوں ریزی کی شکل اختیار کر لی۔ مسلم معاشرے میں اس سے عدم برداشت اور نارواداری کا جو ماحول ’ اپنوں‘ کے تئیں بنا’ غیروں ‘کے معاملے میں اس نے زیادہ بھیانک اور ہلاکت خیز شکل اختیار کر لی۔ مسلمانوں کے مذہبی وغیر مذہبی قائدین نے مسلک اور جماعت کے نام پر بٹتے ہوئے سماج کو متحد رکھنے اور ایک دوسرے کے خلاف پھیلتی ہوئی منافرت کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس کی بنا پر مسلم سماج کا تانا بانا کمزور ہو کر اور بکھر کر رہ گیا ۔

خارجی سطح پر عالمی سیاسی صورتحال کی بنا پر مسلمانوں کی صفوں میں مایوسی و مظلومیت کے احساس کے تحت جو جذباتی رد عمل کی روش پیدا ہوئی اسے بالعموم نوجوانوں میں اسلامی بیداری کا عنوان دیا گیا۔ نہایت سادہ لوحی کے ساتھ یہ سمجھنے اور باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلام کی شانِ جلالی کا دوبارہ ظہور اور اسلاف کی انقلابی روایت کا احیا ہے۔ جن لوگوں نے اس وقت اس پر نکیر کی اسے اسلام سے ناواقف اور مغرب کا حلقہ بگوش تصور کیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ نشہ خوری اور تشدد پسندی کا مزاج کسی حد کو قبول نہیں کرتا۔ رسول اللہ کی ایک حدیث ہے کہ : جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے(مشکاة:۳۱۷) یہ ایک نہایت معنی خیز حدیث ہے۔ اگر تشدد کی موجودہ صورتحال کو اس حدیث کے معنوی مفہوم پر منطبق کرنے کی کوشش کریں تو کہناپڑے گا کہ موجودہ دور میں جہاد کے نام پر جس وقت پُرامن کوششوں کی بجائے پُر تشدد کوششوں کو سند جواز عطاکرنے کی کوشش کی گئی۔ وہی وقت انحراف کا تھا۔ ایک دوسری مثال کی روشنی میں غور کیجئے۔ بعض علما نے فلسطین کی مخصوص صورتحال میں خود کش دھماکے کی اجازت دی۔ حالانکہ اسلام میں خود کشی سراسر حرام ہے۔ اس تھوڑی سی مقدار کو جائز قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب خود کش دھماکوں کو ہی باہمی کشمکش اور مقابلہ آرائی میں اولیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے اہم ہتھیار ہی یہی بنتا جا رہا ہے ۔ انقلاب پسند جماعتوں کے بعض افراد پر فخر طور پر کہتے ہیں کہ مغرب کے پاس ایٹم بم ہے اور ہمارے پا س انسانی بم ہے۔ فلسطین میں یہ ہتھیار صیہونی غاصبین کے خلاف استعمال ہوتا ہے، پاکستان میں خود اپنے عوام، اپنے تعلیمی و دینی اداروں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ تشدد بوتل کا جن ہے جو ایک دفعہ اگر بوتل سے نکل جائے تو پھر دوبارہ بوتل میں جانا نہیں چاہتا۔

اس لیے موجودہ صورتحال میں تمام مذہبی و سیاسی اور سماجی قائدین کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کی کوشش کریں وہ کھل کر جہاد کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض کی مذمت کریں۔ اس وقت عمومی روش یہ ہے کہ صرف اس بات پر تاکید کو کافی سمجھ لیا گیا ہے کہ اسلام امن پسند مذہب ہے۔ وہ دہشت گردی کا مخالف ہے وغیرہ۔ اس قسم کے مجرد بیانات اس صورتحال میں تبدیلی کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس کے لیے واضح اور متعین طورپر مذمت کی ضرورت ہے کہ فلاں تنظیم اور فلاں افراد اسلام کے مجاہد نہیں اسلام کے باغی ہیں۔ اسی صورت میں جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والوں کے عوامی تائید و مدد کی بنیاد کو کھوکھلا اور سماجی سطح پر انہیں الگ تھلگ کیا جا سکتا ہے۔

Islam Main Amn ka Tassauwur

اسلام میں امن کا تصور
وارث مظہری
اسلام ایک پُر امن مذہب ہے ۔ وہ ا من کا داعی ہے اور دنیا میں امن و آشتی کے قیام کا سب سے زیادہ خواہاں ۔ اسلام کی بنیاد امن پر رکھی گئی ہے۔لفظ ” اسلام“” سِلم“ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں امن۔ اس اعتبار سے مسلمان وہ ہے جو سراپا امن ہو۔ جو دوسروں کے لیے خیر کا باعث ہو۔ دُنیااس سے خیر کی توقع کرے۔ شر اور اذیت کی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جان و مال محفوظ ہو۔( ترمذی، نسائی) مسلمان ایک اجتماعیت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ انسانی سماج کا ایک حصہ بنکر رہتا ہے۔ اس سے کٹ کر نہیں رہتا۔ وہ لوگوں کو خود سے قریب کرتا اور کرنا چاہتا ہے، دورکرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے رسول اللہ نے فرمایا کہ : لا خیر فیمن لا یالف ولا یولف۔” اس میں کوئی خیر نہیں جو نہ خود لوگوں سے مانوس ہو اور نہ دوسرے لوگ اس سے مانوس ہوں۔“( بخاری)

حدیث میں دین کوسراسر خیر خواہی قرار دیا گیا ہے۔ ( الدین النصیحة۔ بخاری) اس لیے دین اور دین کے اس مفہوم ( خیر خواہی) کا تقاضا یہ ہے کہ ایک دین پسند انسان اس بات میں یقین رکھتا ہو کہ یہ ساری دنیا اللہ کا کنبہ ہے۔( الخلق عیال اللہ) اس لیے وہ جیسا برتاﺅ اپنے خاندان اور کنبے کے ساتھ کرتا ہو یا کرنے کی طرف فطری خواہش رکھتا ہو، ویسا ہی برتاﺅ وہ خدا کے کنبے کے ساتھ بھی کرے۔رسول اللہ نےے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لےے بھی وہی چیز پسند کرے جو وہ اپنے لےے پسند کرتا ہو(بخاری)

حقیقت میں خدا کی سب سے بڑی نعمت امن ہے۔ امن کے بغیر نہ تو انسان اپنی مذہبی، سماجی اور اقتصادی ذمہ داریوں سے صحیح طورپر عہدہ برآ ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ خدا کی عطا کردہ کسی بھی نعمت سے ہی محظوظ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں امن کو خدا کی ایک بڑی نعمت کے طورپر مختلف جگہوں پر ذکر کیا گیا ہے ۔ ”لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کرکھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔“(قریش:۴)

اسی طرح دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:” ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن وامان کی جگہ بنائی“( البقرہ: ۱۲۵) ا س کی اگلی آیت میں قرآن میں حضرت ابراہیم کی مکے کے بارے میں یہ دعا مذکور ہے کہ :” اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے‘(البقرہ:۱۲۶)‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :” اس خانہ خدا میں جو کوئی داخل ہو گیا وہ مامون ہو گیا۔“ ( آل عمران: ۹۷) قیامت میں نیک و منتخب بندوں سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ” جنت میں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہو جاﺅ۔“( الحجر:۴۶) اس طرح دنیا میں مسلمانوں کے دینی و اجتماعی مرکز کعبہ اور آخرت کے ابدی ٹھکانے جنت کو امن و عافیت کا گہوارہ قرار دیا جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلمانوں سے یہ مطلوب ہے کہ وہ نیا میں امن پسند انسان بن کر رہے۔رسول اللہ کی ایک اہم حدیث یہ ہے کہ : ” تم میں سے جو کوئی اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن کے ساتھ ہو، اپنے جسم کے اعتبار سے صحت مند ہو، اس کے پاس ایک دن کا کھانا پانی موجود ہو تو سمجھو کہ اسے ساری دنیا کی دولت حاصل ہو گئی۔(مشکاة)“ ساری دنیا کے حاصل ہوجانے کی اصل بنیاد یہی امن ہے۔ اس کے بر عکس اگر انسان کو امن و عافیت حاصل نہ ہو تو ساری دنیا کی نعمت و لذت اور عیش و عشرت کی چیزیں اس کے لیے ہیچ اور بے معنی ہیں۔ اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر صورت میں، انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر، امن کے حصول کا متلاشی اور اس کے قیام و حفاظت کے لیے متحرک رہے کہ یہی زندگی اور سماج کی اساس ہے۔ اسی بنیاد پر انسانی تمدن ترقی کر سکتاہے ۔ اور انسان خدا اور بندوں کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

امن کے بالمقابل انفرادی سطح پر خوف اور بے اطمینانی ہے اور اجتماعی سطح پر انتشار اور فساد۔ اگر یہ بد امنی اور فساد و انتشار کی کیفیت کسی جماعت یا قوم کو مسلسل طورپر لاحق ہو جائے تو یہ اس کے لیے بڑی بد نصیبی کی بات ہے۔ اسے سب سے پہلے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت میں مثبت طور پر امن اور سلامتی کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے خواہ بظاہر اس میں اس کا وقتی نقصان ہی کیوں نہ نظر آتا ہو۔

پیغمبر خدا نے ہمیشہ پہلے اس بات کی کوشش کی کہ انہیں اپنے سماج میں اپنی قوم کے درمیان وہ امن حاصل ہو جائے کہ جس کی بناپر وہ اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچا سکیں اور ایک پاکیزہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کر سکیں۔ کبھی اس مقصد میں انہیں کامیابی ملی اور کبھی نہیں ملی لیکن دونوں صورتوں میں وہ اللہ کی تقدیر پر راضی بہ رضا رہے۔ انھوں نے سماج کے لیے مسئلہ بننے کی کوشش نہیں کی کہ لوگ خدائی تعلیم اور پیغام سے متنفر ہو جائیں۔ جہاں ایسی صورتحال پیش آئی وہاں انھوں نے اپنا راستہ بدل دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس تعلق سے ایک نہایت واضح اور روشن نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ تیرہ سالوں تک اپنے وطن مکہ میں رہ کر لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے۔ یہاں انھیں طرح طرح کی اذیتوں ، رکاوٹوں اور بے جا تشدد کا سامنا کرنا پڑا لیکن انھوں نے آخری حد تک صبر کا وسیلہ اختیار کیا اور نصح و فہمائش سے اپنی قوم کی ذہنیت کو بدلنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ لوگوں کی ایک چھوٹی سی تعداد اس پیغام کے حاملین کی تیار ہو گئی۔ آگے جب حالات ناقابل برداشت ہو گئے تو آپ نے مکہ چھوڑ دیا اور مدینہ چلے گئے جس کی فضا سازگار کرنے والوں میں وہی چند لوگ تھے جنھیں آپ نے اپنی صابرانہ کوششوں سے مکے میں تیار کیا تھا۔

مدینے میں آپ نے سب سے پہلے بھرپور کوشش اس بات کے لیے کی کہ یہاں امن و عافیت کی فضا قائم ہو جائے۔ چنانچہ اس کے لیے آپ نے کئی نہج پر کوششیں کیں۔ مدینہ مکہ سے ہجرت کرنے والوں کے لیے دیار غربت تھا۔ وہاں انھیں وحشت و اجنبیت کا سامنا تھا۔ خود ا نصار کے لیے مہاجرین اجنبی اور مسافر تھے۔ قومیت اور قبائل کافرق تھا۔ اس سے اس بات کا پورا امکان تھا کہ مہاجرین کے تعلق سے ان میں سے بہت سے لوگوں میں غیر مانوسیت کا احساس ہو۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت باہمی کی عمومی فضا پیدا کرنے کے لیے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کر دی یعنی ایک مہاجر اور ایک انصاری کو آپس میں بھائی قرار دے کر دونوں کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اس طرح دونوں جماعتوں کے لیے باہمی وحشت انسیت میں تبدیل ہو گئی اور اس سطح پر امن کا ماحول قائم ہو گیا۔

اس کے بعد اس مقصد سے اس شکل کی توسیع کے لیے آپ نے میثاق مدینہ کو اختیار کیا جس کے تحت مدینہ کے مختلف مشرک اور یہودی قبائل کو آپ نے ایک معاہدے میں شریک کر کے انہیں اپنی قومیت کا حصہ بنا لیا۔ اس میثاق یا صحیفے کی آخری شق میں یہ الفاظ شامل تھے کہ جو بھی مدینہ میں رہے یا باہر جائے وہ محفوظ رہے گا۔ سوائے اس شخص کے جو غلط کام یا غداری کا ارتکاب کرے۔ اس طرح ایک شق کے الفاظ یہ تھے کہ وادی یثرب اس صحیفہ والوں کے لیے مقدس حرم ہے۔ اس طرح امن کو اولیت دیتے ہوئے خارجی حملوں اور داخلی فساد و انتشار سے ہر ممکن حفاظت کا پیشگی سامان کیا گیا۔ صلح حدیبیہ کی اسپرٹ بھی یہی تھی۔ یعنی یک طرفہ طورپر ظلم، نا انصافی اور تشدد کو برداشت کرتے ہوئے اس فطری امن کے ماحول کے قیام کی کوشش جس میں اسلام اور مسلمانوں کا قافلہ آگے بڑھ سکے۔ چنانچہ صرف دو سالوں میں اسلام جزیرہ عرب کی ایک مضبوط قوت بن گیا۔

کمزوری کے مرحلے کے بعد قوت اور عروج کے مرحلے میں بھی رسول اللہ نے امن کے قیام کو ہی ترجیح دی۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے ان فاتحین اور بادشاہوں کا رویہ اختیار نہیں کیا جس کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے کہ : جب بادشاہ کسی علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں فساد پھیلاتے اور وہاں کا امن تباہ کر ڈالتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر ڈالتے ہیں“( النمل: ۳۴) آپ نے اس روش کی بجائے عمومی معافی کی روش اختیار کی۔ جب ایک انصاری صحابی نے کہا کہ: یہ یوم الملحمہ یعنی گھمسان کی لڑائی کا دن ہے تو آپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ یوم المرحمة یعنی رحمت و مہربانی کا دن ہے اور اس صحابی ( سعد بن عبادہ ) سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے کو دے دیا۔ آپ نے سفیان کے گھر میں داخل ہو جانے والوں ، گھر کا دروازہ بند کرلینے والوں، مسجد حرام میں داخل ہو جانے والوں کے مامون و محفوظ ہونے کا اعلان کیا اور آخر میں اسلام کے ،مسلمانوں کے اور اپنے کٹر دشمنوں کو بلا تردد معاف کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے وعدے کے مطابق، منکرین کی فوج کی فوج اسلام میں داخل ہو گئی۔

امن فطرت کی پکار ہے۔ انسان کی اجتماعی زندگی کی سب سے اہم بنیاد ہے۔ کسی بھی معاشرے میںامن کا فقدان اس کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جن انسانی گروہوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا وہ ہمیشہ تاریخ میں حاشیے پر رہے۔ مسلم تاریخ میں سب سے جارح ، فساد اور بد امنی کی خوگر خوارج کی جماعت تھی۔ لیکن وہ اسی تیزی کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ اس کے نقش قدم پر جو بھی دوسرے مسلم یا غیر مسلم جماعتیں اپنی مہمات میں سرگرم عمل ہیں، خواہ ان کا مقصد خوارج کی طرح کتنا ہی نیک اور کتنا ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو، تباہ و برباد ہو جانا ان کا مقدر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: تم دشمنوں سے لڑنے بھڑنے کی توقع اور خواہش نہ کرو۔اور اللہ سے عافیت طلب کرو۔ اس کی جگہ مختلف مسلم جماعتو ںنے دنیا کے مختلف خطوں میں ،جن میں اس وقت پاکستان سرفہرست ہے، تشدد اور فساد انگیزی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ فساد نہ پھیلائیں ( لا تفسدوا فی الارض) لیکن وہ خود کو مصلح سمجھ کر ( انمانحن مصلحون)، اس میں مشغول ہیں جو منافقین کا شعار ہے ۔ہماری ان انقلابی اور جہادی جماعتوں نے جو مختلف ممالک میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل میںدن رات مزید اضا فہ کر رہی ہیں۔انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کو امن کا نہیں بل کہ تخریب کا علم بردار بنا کر پیش کیا ہے۔ ان کی کوششیں موجودہ دور میں بالکل برعکس نتیجہ پیدا کرنے والی ثابت ہوئی ہیں۔ان انقلابی جماعتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کے پر امن ذرائع میسر تھے لیکن انہوں نے اس کی ناقدری کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور جس کے نتیجے میں مواقع کار کی بربادی کے ساتھ ان کے مسائل اور مصائب میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اس طرح میرے خیال میں ان انقلابی جماعتوں میں سے اکثر پر قرآن کی یہ آیت صادق آتی ہے کہ:” اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن و اطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس فراغت کے ساتھ ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو ان کے کرتوتوں کا بدلہ تھا۔“( النحل: ۱۱۲)

Islam ka Nazariya Atadal Aur Muslim Mua'ashere Main Intiya Pasandi ki Maujuda Surate Hal

اسلام کا نظریہ اعتدال اور مسلم معاشرے میں انتہا پسندی کی موجودہ صورت حال
وارث مظہری
اسلام اعتدال اور میانہ روی کا مذہب ہے۔ وہ غلو اور افراط و تفریط سے پاک ہے۔ اس کے اصول و احکام فطری تواز ن کی اساس پر قائم ہیں۔ اس لیے وہ زمانی فرق کے بغیر ہر نسل اور جغرافیائی امتیاز کے بغیر ہر گروہ انسانی کے لیے سامان ہدایت اور اسے فطرت کی شاہراہ مستقیم پر گامزن کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

دین کی خصوصیت کے لحاظ سے اس کے ماننے والوں کو قرآن میں ” امت وسط“(معتدل امت )قررار دیا گیا ہے:’اور اس طرح ہم نے تم کوایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔“( البقرہ: ۱۴۳) مفسرین نے امت وسط کی تعبیر امت معتدل سے ہی کی ہے۔

قرآن و حدیث میں شدت کے ساتھ دین میں انتہا پسندی سے بچنے کی تائید کی گئی ہے۔انتہا پسندی کو قرآن و حدیث میں غلو،تنطع اور تشدید وغیرہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اپنے دین میں غلو نہ کرو“۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایاکم والغلو فی الدین فانما ہلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین (صحیح ابن ماجہ)’ ’اے لوگو! دین میں غلو سے بچو۔ اس لیے کہ پہلی قومیں دین میں غلو کرنے سے ہلاک و برباد ہوئیں۔“ اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا کہ : ہلک المتنطعون :” دین میں تشدد اور افراط و تفریط کا رویہ اختیار کرنے والے ہلاک ہوئے“(مسلم)۔ اس بات پر زور دینے کے لیے اسے تین مرتبہ دہرایا ۔اسی طرح ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: ” اپنے اوپر سختی نہ کرو ورنہ یہ سختی تم پر لازم کر دی جائے گی ۔ایک گروہ نے اپنے اوپر ایسی سختی کی تو اس پر سختی کی گئی۔ اس گروہ کے بچے ہوئے لوگ چرچوں اور ر اہب خانوں میں ہیں“(مسند ابو یعلی)

سختی اور انتہا پسندی کی بجائے آپ نے اپنے ماننے والوں کو معتدل راہ ( ہدیا قاصداً ) اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ آپ نے فرمایا کہ :”تم معتدل راہ اختیار کرو“( علیکم ہدیا قاصداً) یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ دہرایا اور پھر کہا کہ ”: جو انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرے گا وہ مغلوب ہو جائے گا“۔(بخاری مسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہمیشہ درمیانی راہ اختیار کرنے کا تھا۔ آپ کا قول ہے کہ : ” اعتدال کی راہ اختیار کرو، منزل تک پہنچ جاﺅگے۔“

غلو یا انتہا پسندی کی مختلف جہتیں یا شکلیں ہیں تاہم وہ اپنے مجموعی معنی میں حد سے تجاوز کرنے کا نام ہے۔ خواہ وہ دینی طورپر مطلوبہ امر میں کمی کے ذریعے ہو یا زیادتی کے ذریعہ۔ حجة الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے فرمایا کہ” : منیٰ میں رمی جمار کے لیے کنکریاں ملے آﺅ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے چھوٹی چھوٹی کنکریاں آپ کو چن کر دیں۔ آپ نے انہیں لے کر فرمایا: ہاں ایسی ہی کنکریاں ، تم دین میں غلو کرنے سے بچو“۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے کتنی معمولی بات کو دین میں غلو سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے خبردار کیا اور اس پر شدت کے ساتھ وعید کی۔

دینی معاملات میں انتہا پسندی کا بہت کچھ تعلق انسان کی اپنی انفرادی اور سماجی زندگی سے ہے۔ ایک شخص جو مختلف انفرادی اور سماجی معاملات میں غیر معتدل رویے کا پابند ہو وہ خالص دینی معاملات میں بھی افراط و تفریط سے دور نہیں رہ سکتا۔ انسان کی فکری تشکیل میں انسان کے خود اپنے اعمال و مشاغل کی نوعیت بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث میں اس لحاظ سے انسان کی شخصی تعمیر اور تربیت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے، وقتی، دائمی، ذاتی اور سماجی معاملات میں معتدل اور متوازن شخصیت کا حامل ہو۔ اس لیے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اسلام نے اعتدال کی تعلیم دی ہے اور ہر مرحلے میں اس کو مطلوب قرار دیا ہے۔ چال ڈھال، رفتار گفتار ، سونے جاگنے، کمانے خرچ کرنے اور تمام چیزوں میں اعتدال کا پاس و لحاظ رکھنے کی ہدایت اور تلقین کی گئی ہے۔

جب آپ نے کچھ لوگوں کے بارے میں سنا کہ ان میں سے کوئی ہمیشہ روزہ رکھنے، کوئی شادی نہ کرنے، کوئی شہوت سے بچنے کے لیے گوشت نہ کھانے اور کوئی عبادت کی خاطر بستر پر نہ سونے کا ارادہ رکھتا ہے ،تو آپ اس قدر غضب ناک ہوئے کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ پھر اپنی مثال دیتے ہوئے آپ نے ان لوگوں کو اس بات کی ہدایت کی کہ وہ ایک معتدل سماجی زندگی گزارتے ہوئے خدا کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اسلام کی نظرمیں ایک معتدل شخصیت وہ ہے جو خدا اور بندے دونوں سے وابستہ دونوں کا حق ادا کرنے والا ہو۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ:” تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے،تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی اور بچوں کا بھی تم پر حق ہے ۔ اس لیے تم ہر صاحب حق کا حق ادا کرو(بخاری) انسان کو ایسے کاموں کے کرنے سے روک دیا گیا جس کی وہ استطاعت نہیں رکھتا۔( البقرہ:۲۸۶) ایسے اعمال کو انسان کے لیے پسندیدہ قرار دیا گیا جن پر وہ مداومت کر سکے(بخاری و مسلم)
دین میں انتہا پسندی کے بنیادی عوامل
دین میں غلو اور انتہا پسندی کی سب سے اہم بنیاد یا سبب دینی نصوص کی حرفی تعبیر اور انانیت پسندی کا رویہ ہے۔ جو افراد یا جماعتیں اپنے گرد و پیش کے سماج یا سماج کے خاص گروہ سے اختلاف رکھتی ہیں اور اسی کے ساتھ انانیت پسندی کی نفسیات کا شکار ہوتی ہیں ، ان کی خواہش و کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان افراد اور جماعتوں کو سماج سے بے دخل یا اس کے حاشیے پر کر دیں۔ اس کے لیے وہ دینی نصوص کا سہارا لیتی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ عوام پر اثر ڈالنے اور انھیں عوام کے خلاف آمادہ کرنے میں آسانی ہو اس کے لیے وہ بعض قرآنی آیات و احادیث کے ان ظاہری مفاہیم کو لے لیتی ہیں جو ان کی طبیعت اور مقصد کے مطابق ہوں اور ان کے بالمقابل دوسری ان آیات و احادیث کو نظرانداز کر دیتی ہیں، جن میں پہلی مجمل آیات و احادیث کی تفصیل و توضیح مذکور ہوئی ہے اور ان کے اختیار کردہ نصوص کی نہایت حرفی تعبیر کرتے ہوئے سیدھے سادے عوام کی ایک تعداد کو اپنے نقطہ نظر کا قائل کرنے اور اپنے مطابق ان کی ذہن سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

انتہا پسندی کی دوسری اہم بنیاد دین کے فروعی مسائل کو اصولی شکل دے کر لوگوں سے ہر حال میں ان کی پیروی کا مطالبہ کرنا ہے۔ مسلکی کشمکش کی موجودہ صورتحال اسی ظاہرے کی پیداوار ہے۔ اس سے مسلم سماج میں جو انتشار پیدا ہوا ، اس نے دینی انتہا پسندی کی راہ کو دین کے نام پر فساد برپا کرنے والوں کے ذریعہ ہموار کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ سماج میں اس سے نا رواداری اور عدم برداشت کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا۔

اس سلسلے کی ایک اہم چیز اسلام کی اسپرٹ اور مقاصد شریعت کو نظرانداز کر دینا ہے۔ اسلام آسان دین ہے ( الدین یُسر) اسلام میں حرج، تنگی اور پریشانی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ اسلامی اصول کے مطابق ، زمان و مکان کی تبدیلی سے شریعت کا حکم بدل جاتا ہے۔اسلام کا مزاج ہے کہ جب کسی معاملے میں مشقت پیدا ہو تو شریعت کا دامن وسیع ہو کر خود بخود آسانی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے ۔فقہی اصول ” المشقة تجلب التیسیر“ کا مطلب یہی ہے۔ یہی شریعت کا مزاج اور اس کی روح ہے لیکن اس مزاج اور روح کو نظرانداز کر دینے کی وجہ سے آسانی اور رحمت کا دین پریشانی اور زحمت کا دین بن جاتا ہے ۔ دین پر تنقید کرنے والوں کی زبانیں دراز ہو جاتی ہیںاور دین سے بے تعلقی برتنے والے ضعیف الایمان لوگوں کو بے عملی کا بہانہ مل جاتا ہے۔

اس سلسلے کی ایک اہم چیز جس کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے ماضی و حال میں ہمیشہ فتنوں کو سر ابھارنے کا موقع ملا، اسلام میں تدریج کا اصول ہے۔ اسلام کی دعوتی اور احیائی تحریکوں میں انحراف عموماً اسی راستے سے آیا۔ اس سلسلے کی سب سے تازہ اور قریب کی مثال افغانستان میں طالبان کی تحریک ہے جسے خوش قسمتی سے وہاں حکومت کو تشکیل دینے کا موقع مل گیا لیکن فروعات پر تشدد اور اسلام کے اجتماعی سطح پرنفاذ میں تدریج کے اسلامی اصول کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے وہ غیروں کی نظر میں کیا خود اپنوں کی نظر میں ایک ’خطرہ‘ بن گئی۔ اس پہلو کو نظرانداز کر دینے کی وجہ سے پہلے مصر اور الجزائر وغیرہ کی سرزمین اسلام پسندوں کے لیے عقوبت خانہ بنی اور اس وقت اکثر عرب ملکوں کی جیلیں ان سے بھری پڑی ہیں۔
دین میں انتہا پسندی کا قدیم ظاہرہ
دین میں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم کے باوجود قانون فطرت کے مطابق، ہر زمانے میں کچھ ایسے افراداور جماعتیں پائی جاتی رہی ہیں۔ جنھوں نے غلو اور انتہا پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ اس سے ایک طرف اسلامی سماج میں بد امنی اور فساد پیدا ہوا دوسری طرف اسلام کی بدنامی ہوئی۔ اگرچہ مسلم سماج میں اس طرح کے رجحانات اور ان سے پیدا ہونے والے شر و فساد کے اسباب و محرکات زیادہ تر سیاسی تھے تاہم دین کو ان رجحانات اور ان کے تحت پائے جانے والے طریقہءکار کی بنیاد اور ذریعہ کے طورپر استعمال کیا گیا۔ مسلم معاشروں کے تاریخی مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذہب کا حوالہ یا مذہب کی بنیاد جہاں ایک طرف سماجی تحریکات کے لیے قوت اور کامیابی کا ایک اہم ماخذ اور اساس رہی ہے وہیں منفی زاویے سے مذہب کا حوالہ یا دوسرے لفظوں میں بعض مذہبی اصول ونظریات کا غلط استعمال مسلم سماج کے لیے زبردست خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنا ہے۔ اسلام کی ابتدائی دو تین صدیوں کے درمیان مختلف نئی اسلامی جماعتیں نئے نئے نظریاتی قالب میں سامنے آئیں۔ خوارج، معتزلہ، قدریہ، مرجئہ وغیرہ۔ ان تمام فرقوں کے نظریات افراط و تفریط اور انتہا پسندی پر مبنی تھے۔ کوئی گناہ کبیرہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے کفر کا قائل تھا تو کوئی سرے سے گناہ کبیرہ کو ایمان کے لےے مضر نہیں تصور کرتا تھا ،کسی کے نزدیک انسان مجبور محض تھا ،تو کسی کے نزدیک انسان خود اپنے افعال کا خالق وغیرہ۔

لیکن انتہاءپسندی کو نہ تو نظامِ فطرت برداشت کرتاہے نہ انسانی سماج اور نہ کوئی انسانیت پسند مذہب۔ اس لیے یہ تمام جماعتیں پیوند خاک ہوتی چلی گئیں۔ اب ان میں سے کسی کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔ان تمام میں سب سے پُر تشدد جماعت خوارج کی جماعت تھی۔ یہ اس معنی میں ” اللہ والوں“ کی جماعت تھی کہ اس کے ارکان ظاہری عبادت و ریاضت، کھانے پینے میں حرام و حلال کی تمیز اور اس طرح کے بعض دیگر امور میں دین داروں کااعلیٰ نمونہ اور مثال تھے۔ انھوں نے اپنے نظریات کی اساس قرآن کو قرار دیا تھا اور وہ ہر معاملے میں قرآن کا حوالہ دیتے اور اس کو فیصل گردانتے تھے اور اسی وجہ سے بہت سے سیدھے سادے لوگ ان کی پکڑ میں آگئے، لیکن نظری و فکری انحراف نے ان کے زمینی سانچے کو بدل دیا تھا کہ قرآن سے ہی استدلال کرتے ہوئے وہ اپنے علاوہ اکثر مسلمانو ںکو کافر اور مباح الدم تصور کرتے تھے۔ حضرت علی نے ان کے مذہبی استدلالی رویے پر بہت پر معنی تنقید کی تھی کہ وہ کلمہ حق سے باطل مراد لیتے ہیں( کلمة حق ارید بہا الباطل) خوارج اپنے گمراہ کن اور فساد انگیز نظریات کی بنیاد قرآن پر ہی رکھتے تھے۔ حضرت علی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نہایت اہم جملہ کہا تھاکہ :” قرآن اللہ کا کلام ہے لیکن وہ انسان کے منہ سے بولتا ہے۔“ ابتدائے اسلام کا مسلم سماج جو اسلام کے نظریات اور اس کے عملی ماڈل سے زیادہ قریب و ہم آہنگ تھا، غلو اور انتہا پسندی کے اس رویے کو برداشت نہ کر سکا اور یہ جماعت بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
دین میں انتہا پسندی کا جدید ظاہرہ
موجودہ دور میں اسلام کی احیائی تحریکوں میں جو بے اعتدالی اور انتہا پسندی کی روش پیدا ہوئی ہے وہ ماضی کی انتہا پسند اور تشدد پرست جماعتوں سے کافی مشابہ ہے۔ ان دونوں کے نقطہ نظراور فکری و عملی منہج میں کافی اشتراک پایا جاتا ہے۔ اس کو اس مثال کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ خوارج اپنے نقطہ نظر کی اساس جن قرآنی آیات کو بناتے تھے ان میں سے ایک بنیادی آیت یہ تھی: و من لم یحکم بما انَزل اللہ فاولئک ھم الکافرون(المائدہ :۴۴)بیسویں صدی کی مختلف انقلابی اور احیائیت پسند جماعتیں اس آیت کے ظاہری معنی کو نظرمیں رکھتے ہوئے جمہوری نظام کو قبول کر لینے والوں کی تکفیر کرتی رہی ہیں۔ سید قطب اسی نظر ےے کے حامی تھے ۔ انہوں نے ”فی ظلال القرآن“ اور ”معالم فی الطریق “میں مختلف جگہوں پر اس کا اعادہ کیا ہے۔ حالانکہ بعض مفسرین کے مطابق یہ آیت یہودیوں کے لےے خاںص ہے، یا دوسری شکل میں وہ اس صورت پر محمول ہے جب کہ اس کو اعتقاد کی سطح پر اور جائز سمجھ کر کیا جائے ۔حالاں کہ جمہوری ملک کے ایک شہری کے لےے یہ محض مجبوری کی عملی شکل ہے۔ وہ اس ملک کے قانون کو خدا کے قانون کا بدل تصور نہیں کرتا ۔اگر اسکے ظاہری مفہوم کو مراد لیا جائے تو وہ قرآن کی اس آیت سے براہ راست متصادم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی حد استطاعت سے زیادہ چیز کا مکلف نہیں کرتا۔( البقرہ:۲۸۶) اگر اس آیت کی مخاطب علی الاطلاق پوری امت ہو تو پھر ضروری ہوگا کہ اللہ کے قانون کو اللہ کی سرزمین پر نافذ کرنے کے لیے پوری دنیا کو ’ دارالاسلام‘ بنانے کی کوشش کی جائے اور یہ کسی بھی طرح ممکن اور خدا کی منشا کے مطابق نہیں ہے۔

دین میں غلو اور انتہا پسندی آج ہماری اسلامی جماعتوں اور تحریکوں کا شعار بنکر رہ گئی ہے۔ ایک جماعت کا بڑالٹریچر دوسری جماعت کی مخالفت ، تنقید اور اس سے بڑھ کر تکفیر پر مشتمل ہے۔ مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے درمیان اشتراک عمل کی مثالیں بہت کم ہیں۔ جو ہیں وہ سیاسی دباﺅ میں ہیں اور ان کا مقصد کچھ سیاسی مقاصد کا حصول ہے۔مثال کے طورپر ہندوستان کی مثال لیں۔بریلوی جماعت ، دیوبندی جماعت کی باضابطہ تکفیر و تفسیق کرتی ہے، اسی طرح مثال کے طورپر دیوبندی یا اس حلقے کی اکثریت اہل تشیع کی تکفیر کرتی ہے۔ لیکن جہاں تک حکومت سے سیاسی مفادات کے حصول کا معاملہ ہو یا مختلف سیاسی و ملی ایشوز پر احتجاج اور مظاہرے درج کرانے کی روش، یہ جماعتیں کچھ گھنٹوں کے لیے آپس میں متحد ہو جاتی ہیں۔ اس طرح ایک عرصہ دراز سے دیوبندی افراد و ارکان کے غلبے والی جماعت مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ایک مشہور شیعہ عالم ہیں۔ حقیقت میں یہ سرے سے وفاق ( اتحاد و ہم آہنگی) کی نہیں، نفاق کی صورت حال ہے ورنہ اس طرح کی سب سے پہلی بین جماعتی اور بین مسلکی نشست یا اجتماع میں تمام جماعتوں کے اہل و عقد کے اتفاق سے ایک قرار داد، اعلانیہ یا فتویٰ شائع کیاجانا چاہےے تھا کہ ہم سیاسی و ملی ہی نہیں ، خالص دینی سطح پر بھی ایک دوسرے کواپنی طرح کا مسلمان سمجھتے ہیں۔ ہم ماضی میں دیے گئے ایسے تمام تکفیری فتووں کی کالعدمی اور منسوخیت کا اعلان کرتے ہیں، لیکن آج تک ایسی کوئی مثال سامنے نہیں آئی۔ یہ خود اپنے مذہبوں کے ساتھ ان کے تعلق اور تعامل کی صورت حال ہے، غیر مذہب کے لوگوں کے ساتھ معاملے کو اس کی روشنی میں پرکھا جا سکتا ہے۔

ہمارے دینی حلقوں اور مدارس وغیرہ کا دینی مزاج یہ ہے کہ وہاں اسلامی مظہر: داڑی،کرتا ، ٹوپی ، برقعہ اور اسلامی آداب ، نشست و برخاست غیروں سے تشبیہ اور لہو ولعب ( گانے ،موسیقی، تصویر کشی وغیرہ) سے اجتناب پر آخری حد تک زور دیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف ان کے یہاں حرام و حلال کی تمیز ، معاملات کی صفائی، اخلاق و کردار کی بلندی، ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی رعایت کی صفات نہیں پائی جاتیں۔ ایسے بہت سے معاملات میں روایتی بزرگوں کے رویوں کو دیکھ کر حضرت مسیح کایہ قول یاد آتا ہے، جو انھوں نے فریسیوں سے کہا تھا: کہ تم لوگ مچھر کو چھانتے ہو لیکن اونٹ کو پورا کا پورا نگل جاتے ہو۔

نظریاتی اور عملی سطح پر اسلامی تحریکوں اور دینی حلقوں میں پائے جانے والی اسی طرح کی غلو اور انتہا پسندی کی مثالوں نے عوام کی نظروں میں ان کے اعتماد کو فروتر کر دیا ہے۔ دین کی انقلابی اور احیا پسند تحریکوں کا غلو اور انتہا پسندی موجودہ دور میں اس شکل میں سامنے آئی ہے کہ وہ صدیوں سے اسلام کی اجتماعی و سیاسی سطح پر ’ بے دخلی‘ کی صورتحال کو ہفتوں اور مہینوں میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کی تمام کوششیں برعکس نتیجہ پیدا کرنے والی بن رہی ہیں۔ پاکستان میں لال مسجد کا واقعہ اسلام کے دعوتی منہج واسلوب میں تدریج کے اصول کو پس پشت ڈال کر عالمی سطح پر اسلام اور اہل اسلام خصوصاً طبقہ علما کو رسوا کرنے کا دور جدید کا سب سے افسوس ناک اور بھیانک واقعہ ہے۔ اس وقت پاکستان کے جہادی عناصر جس انتہا پسندی کے شکار ہیں اس کا سرا اس انتہا پسندی سے ملتاہے جس کے خلفائے راشدین حضرت علی اور شکار ہوئے تھے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے وہ اپنے ماننے والوں کو ہر روش میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم و ترغیب دیتا ہے۔ اعتدال کو چھوڑ کر غلو اور انتہا پسندی کی راہ خواہ وہ کسی بھی نیک سے نیک مقصد کے لیے ہی کیوں نہ اختیار کی جائے، فطرت کے خلاف ہے، اس لیے اس سے برعکس نتائج کی ہی توقع کی جا سکتی ہے اور ہر صورت میں اس کا زوال یقینی ہے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ: ”ہر انتہا پسندی تشدد کا باعث بنتی ہے اور ہر تشدد کے لیے زوال یقینی ہے“( ان لکل ضراوة شرة ولکل شرة فترة)۔(مسند احمد)